.

شام کے لیے ایران اور روس کے آئین میں ’عرب تشخص‘ کی نفی

صدر کے مذہب کا خانہ، حلف میں اللہ کا نام اور ملک میں’عرب‘ جمہوریہ ختم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صدر بشارالاسد کے حامی ایران اور روس شام کے لیے ایک نئے آئین کی خفیہ طور پر تیاری پر کام جاری رکھے ہیں۔ حال ہی میں لبنان میں ایران نواز ذرائع ابلاغ نے مجوزہ آئین کے بارے میں کچھ خفیہ معلومات شائع کی ہیں اور بتایا ہے کہ شام کے لیے بشارالاسد کے حواریوں کے تیار کردہ آئین میں مملکت کا ’عرب تشخص‘ ختم کردیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شام سے متعلق متنازع نوعیت کے آئین کے بارے میں تازہ اطلاعات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ماسکو نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ وہ شام کے لیے ایک نئے دستور کی تیاری کے لیے کوشاں ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ شام کے لیے تیار ہونے والے دستور میں ملک کے نمائندہ طبقات، انقلابی جماعتوں اور اپوزیشن کے نیشنل الائنس کو مکمل طورپر نظرانداز کیا گیا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران اور روس شام کے لیے من پسند آئین تیار کرنا چاہتے ہیں جس میں شامی اپوزیشن کو تجاویز پیش کرنے کا کوئی حق نہیں دیا گیا ہے۔ تاہم روس اور ایران کی مرضی کا آئین بشارالاسد کے قابل قبول ہوگا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق شام کے لیے تہران اور ماسکو نے جس آئین کی تیاری شروع کی ہے اس میں مملکت کے عرب تشخص کی مکمل طورپر نفی کی گئی ہے، عرب جمہوریہ شام کے بجائے صرف جمہوریہ شام کی اصطلاح اختیار کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آئین میں حلف برداری کے دوران اللہ جل جلالہ کا نام نامی شامل نہیں کیا گیا۔ حالانکہ موجودہ آئین میں حلف اللہ کے نام پر لیا جاتا ہے۔ شام کو سیکولر اور لادین ریاست بنانے کے لیے صدرکے لیے مذہب کا خانہ بھی ختم کردیا گیا ہے۔

غیرمعمولی ترامیم

میڈٰیا میں شام میں کے لیے ایران اور روس کے من پسند آئین کے بارے میں آنے والی تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ نئے متنازع آئین میں تین جوہری تبدیلیاں عمل میں لائی جا رہی ہیں۔ سب سے اہم یہ شام کا عرب تشخص ختم کردیا گیا ہے۔ عرب جمہوریہ شام کے بجائے اس کی جگہ ’جمہوریہ شام‘ کا نام تجویز کیا گیا ہے۔

دوسری ترمیم صدر کے مذہب کے حوالے سے کی گئی اور آئین میں صدر کے مذہب کا خانہ ختم کردیا گیا ہے جب کہ موجودہ آئین میں ملک کے صدر کے لیے مسلمان ہونا لازمی ہے۔

نئے دستور میں کردوں کے لیے ثقافتی حد تک خود مختاری کی بات کی گئی ہے۔ حلف کی عبارت میں ’’اللہ‘‘ کا نام ہٹا دیا گیا ہے۔’’ میں حلف اٹھاتا ہوں اللہ کے نام پر‘‘ کے بجائے صرف ’’میں حلف اٹھاتا‘‘ ہوں کے الفاظ شامل کیے گئے ہیں۔

پارلیمنٹ’’پیپلز کونسل‘‘ کے بجائے ’’پیپلز اسمبلی‘‘ کا نام تجویز کیا گیا ہے۔

مبینہ ترامیم میں صدارتی انتخابات میں حصہ لینے لیے صرف چالیس سال سے زاید عمر اور شام کی شہریت کی شرط رکھی گئی ہے۔