.

سعودی جزیروں کے مخالف 47 مصریوں کی سزائے قید منسوخ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک اپیل عدالت نے سینتالیس افراد کو حکومت مخالف مظاہرے کی پاداش میں سنائی گئی پانچ پانچ سال قید کی سزا منسوخ کردی ہے۔

ان افراد پر الزام تھا کہ انھوں بحر احمر میں واقع دو جزیرے سعودی عرب کے حوالے کرنے سے متعلق مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی حکومت کے فیصلے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔ ایک ماتحت عدالت نے 14 مئی کو انھیں پانچ، پانچ سال قید اور ایک ایک لاکھ مصری پاؤنڈز (فی کس) جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

اپیل عدالت نے ان کو سنائی گئی قید کی سزا ختم کردی ہے مگر جرمانے کی سزا برقرار رکھی ہے۔وکیل صفائی نور فہمی نے بتایا ہے کہ مدعاعلیہان اس جرمانے کی منسوخی کے لیے اب دوسری مرتبہ اپیل دائر کریں گے۔اپیل عدالت نے اپنے فیصلے کا جواز بیان نہیں کیا ہے۔

واضح رہے کہ 25 اپریل کو سیکڑوں افراد نے قاہرہ میں دو جزیروں کو سعودی عرب کے حوالے کرنے پر السیسی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔مظاہرین پر قابو پانے کے لیے پولیس کے سیکڑوں اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ان مظاہروں میں حصہ لینے پر قریباً دو سو افراد کے خلاف مقدمہ چلایا گیا ہے۔

اس سے پہلے 15 اپریل کو بھی ہزاروں افراد نے قاہرہ میں احتجاجی مظاہرے کیے تھے اور حکومت کے خاتمے کے حق میں نعرے بازی کی تھی۔سنہ 2011ء کے اوائل میں سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کی حکومت کے خلاف بھی اسی طرح کی نعرے بازی کی تھی۔ان مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں ایک سو سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔تاہم ان میں سے بیشتر کو بعد میں مقدمہ چلائے بغیر رہا کردیا گیا تھا۔

مصری حکومت کا مؤقف ہے کہ تزویراتی اہمیت کی حامل آبی گذرگاہ خلیج عقبہ کے جنوبی داخلی راستے پر واقع دونوں جزیرے "تيران"اور"صنافير'' سعودی عرب کے ملکیتی تھے۔اس نے 1950ء میں مصر سے ان جزیروں کے تحفظ کے لیے کہا تھا اور ان پر تب سے مصر کا کنٹرول چلا آرہا تھا۔مصر اور سعودی عرب کے درمیان گذشتہ ماہ طے شدہ معاہدے کے تحت اب یہ جزیرے سعودی ملکیت ہیں۔

یادرہے کہ مصر نے 1967ءمیں آبنائے تیران کو بند کردیا تھا۔اس کے ردعمل میں اسرائیل نے مشرق وسطیٰ میں جنگ چھیڑ دی تھی اور ان دونوں جزیروں پر قبضہ کر لیا تھا۔بعد میں جب 1979ء میں مصر کا اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ طے پایا تھا تو اس نے ان جزیروں کا کنٹرول مصر کے حوالے کردیا تھا۔مصر نے عقبہ اور ایلات میں آزادانہ جہازرانی کے حق کے احترام کا وعدہ کیا تھا۔اب سعودی عرب نے بھی یہی وعدہ کیا ہے کہ وہ ان دونوں جزیروں پر کنٹرول کے بعد بحری جہازوں کی آزادانہ آمد ورفت میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گا۔