.

شام: الرقہ آپریشن، 250 امریکی میرینز الحسکہ کے شمال میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں داعش تنظیم کے گڑھ الرقہ شہر کو آزاد کرانے کے سلسلے میں 250 امریکی میرینز الحسکہ شہر کے مشرق میں واقع رمیلان فضائی اڈے پہنچ گئے ہیں۔ مذکورہ میرینز کو لانے والے خصوصی طیاروں میں بھاری اسلحہ اور فوجی سازو سامان بھی موجود تھا۔ امریکی فورس کے ایک حصے کو تل ابیض شہر منتقل کردیا گیا ہے۔

الرقہ کو آزاد کرانے کے آپریشن کی قیادت سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کا اتحاد کررہا ہے۔ اتحاد میں 30 ہزار کے قریب جنگجو شامل ہیں جن میں اکثریت کردوں کی ہے۔ ان کے اور بین الاقوامی اتحاد کے طیاروں کے علاوہ آپریشن میں عرب قبائلی جنگجو، علاقے میں سکونت پذیر مسلح ترکمان اور الرقہ صوبے کے مسلح شہری بھی شریک ہیں۔ کردوں نے الرقہ میں مشترکہ آپریشنز روم کے ذریعے واشنگٹن میں امریکیوں کے ساتھ کوآرڈی نیشن کی تصدیق کی ہے۔

"کُرد ریجن" کی توسیع کے اندیشے

ادھر شامی اپوزیشن نے خیال ظاہر کیا ہے کہ کرد جنگجو الرقہ کا کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ کرد ریجن کو وسیع کیا جاسکے اور داعش نے الرقہ میں بسنے والوں سے کوچ کرجانے کا مطالبہ کیا ہے جب کہ وہ اس اراضی کے مالک ہیں۔

دوسری جانب روس نے اپنے وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف کی زبانی اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ وہ ان کارروائیوں میں کردوں اور امریکا کے ساتھ کوآرڈی نیشن چاہتا ہے۔

لاؤروف نے واضح کیا کہ روس اور امریکا شام میں فوجی کارروائیوں میں کوآرڈی نیشن پر متفق ہوچکے ہیں۔