.

عراقی حزب الله "فلوجہ" کی لڑائی میں سرکاری طور پر شریک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی وزارت دفاع کی جانب سے جاری سرکاری رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ عراقی حزب اللہ کے بریگیڈز فلوجہ کے لڑائی میں شرکت کررہے ہیں۔

ادھر عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی نے اپنے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ فلوجہ میں داعش تنظیم پر جلد فتح حاصل کرلی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ معرکوں کے دوران شہریوں کو جانی نقصان سے محفوظ رکھنے کے لیے ان کی حکومت نے ضروری اقدامات کی ہیں۔

کابینہ کے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے العبادی کا کہنا تھا کہ داعش تنظیم فلوجہ میں زوال کی جانب بڑھ رہی ہے اور عراقی فورسز اس شہر میں جلد کامیابی حاصل کرلیں گی۔

دوسری جانب بغداد آپریشنز روم نے بدھ کے روز بتایا ہے کہ الکرمہ کے نزدیک دو دیہاتوں پر کنٹرول حاصل کرلیا گیا ہے جب کہ اس دوران داعش کے 13 مسلح ارکان مارے گئے۔

اس دوران عراقی فورسز کی فلوجہ شہر کے اطراف پیش قدمی کے دوران شہر کے بیرونی حصوں میں شدید لڑائیاں ہوئیں۔

فلوجہ شہر کے اندر طبی ذرائع نے بتایا کہ شہر کو داعش تنظیم کے قبضے سے چھڑانے کی کارروائی کے دوران اندھادھند بمباری کے نتیجے میں 6 بچوں اور 5 خواتین سمیت 17 شہری جاں بحق اور 36 زخمی ہوگئے۔ عینی شاہدین نے "العربيہ" کو ٹیلیفونک گفتگو میں بتایا کہ بمباری کی شدت اور ایمبولینس کی گاڑیاں نہ ہونے کے سبب متعدد زخمیوں کو ہسپتال نہیں پہنچایا جا سکا۔

فوجی ذرائع کے مطابق عراقی فورسز نے فلوجہ کی ناکہ بندی کر کے متعدد محوروں سے داعش کے گرد گھیرا تنگ کر دیا ہے۔

پاپولر موبیلائزیشن کی ملیشیاؤں کے شہر میں داخل ہونے کے اندیشوں کے بیچ الانبار صوبے کی کونسل کے نائب سربراہ فالح العیساوی کا کہنا ہے کہ ملیشاؤں کا کردار فلوجہ کے گھیراؤ تک محدود رہے گا اور وہ شہر کے اندر ہر گز داخل نہیں ہوں گی۔

توقع ہے کہ علاقے میں انسداد دہشت گردی کی فورس کے لیے بڑی کمک پہنچ جائے گی جب کہ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ انسداد دہشت گردی کے ادارے کی چھ رجمینٹ فلوجہ کے جنوب کی سمت متعدد دیہاتوں کی جانب بڑھیں گی۔

عراقی فورسز کے چاروں سمت سے فلوجہ کی جانب پیش قدمی کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی تنظیم صلیب احمر نے شہریوں کے بچاؤ کے لیے ہنگامی طور پر اپیلیں کی ہیں۔