.

قاسم سلیمانی کی فلوجہ معرکے کی "نگرانی"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پاسداران انقلاب کے ذیلی بریگیڈ فیلق القدس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر زیرگردش ان تصاویر نے ہنگامہ کھڑا کردیا ہے جن میں وہ عراق کے شہر فلوجہ کے معرکے کی نگرانی کے لیے اجلاس میں شریک نظر آرہے ہیں۔ یہ تصاویر اسی روز جاری ہوئی ہیں جس روز سلیمانی نے قم میں ایک کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس وجہ سے ان تصاویر کے مستند ہونے کے بارے میں شکوک پیدا ہوگئے ہیں۔



بعض تصاویر میں سلیمانی سادہ لباس میں عراق میں پاپولر موبیلائزیشن ملیشیاؤں کی قیادت کے ساتھ ایک اجلاس میں ان نقشوں کی نگرانی کررہے ہیں جن کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ فلوجہ کے معرکے کے لیے عسکری منصوبے ہیں۔ اس دوران دیگر تصاویر میں سلیمانی دوسرے لباس میں نظر آرہے ہیں۔

ان تصاویر کے صحیح ہونے کی صورت میں یہ عراق میں براہ راست ایرانی مداخلت کا ایک اور ثبوت ہوں گی جس طرح کہ شام میں دیکھا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ تحریک النجباء نامی ملیشیا نے فیس بک پر پیر کے روز سلیمانی کی تصاویر جاری کیں جن میں وہ فیلق بدر کے کمانڈر اور پاپولر موبیلائزیشن کی قیادت کے ساتھ ایک اجلاس میں نظر آرہے ہیں۔

تاہم دیگر اکاؤنٹس پر اسی روز سلیمانی کی ایرانی شہر قم میں موجودگی کی تصاویر نشر کی گئیں۔ ان کے علاوہ ایرانی سرکاری نیوز ایجنسیوں جن میں "اِرنا" اور "مہر" شامل ہیں انہوں نے ایک کانفرنس کی تصویری رپورٹیں جاری کیں جس میں سلیمانی نے خطاب کرتے ہوئے شام اور عراق میں لڑائی کا دفاع کیا ہے۔ سلیمانی نے ایران میں علمی درس گاہوں اور مذہبی اداروں پر زور دیا کہ وہ سیاست اور معاشرے میں زیادہ بڑا کردار ادا کریں۔

ادھر عربی روزنامے "الشرق الاوسط" کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر محسن رضائی کے قریب شمار کی جانے والی ویب سائٹ "تابناک" نے بتایا ہے کہ سلیمانی پیر کے روز صبح اور دوپہر کے وقت قم کانفرنس میں تھا جب کہ شام میں وہ توقع کے مطابق عراق پہنچ گیا۔



دوسری جانب ایسے وقت میں جب کہ اتحادی افواج فلوجہ کے معرکے میں پیش قدمی کررہی ہیں، بعض ویب سائٹوں پر فخریہ طور پر ایسی تصاویر بھی نشر کی گئی ہیں جن میں پاپولر موبئیلائزیشن کے راکٹوں پر کچھ عرصہ قبل شام میں ہلاک ہونے والے حزب اللہ کے ایک رہ نما مصطفی بدرالدین کی تصویر چسپاں دکھائی گئی ہے۔