.

اسرائیلی فوج کا راکٹ کے جواب میں غزہ پر فضائی حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فضائیہ نے غزہ کی پٹی میں جمعرات کو علی الصباح دو مقامات پر حملے کیے ہیں۔اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ یہ بمباری فلسطینیوں کے ایک راکٹ حملے کے جواب میں کی گئی ہے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق:''غزہ کی پٹی سے فائر کیا گیا ایک راکٹ اسرائیل کے جنوبی علاقے میں ایک کھلی جگہ میں گرا تھا لیکن اس سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا ہے۔اس کے جواب میں اسرائیلی فضائیہ نے غزہ کی پٹی کے جنوبی علاقے میں حماس کے دو اہداف کو نشانہ بنایا ہے''۔

بیان کے مطابق 2016ء کے آغاز کے بعد سے غزہ کی پٹی سے اسرائیل کی جانب نو راکٹ فائر کیے جا چکے ہیں۔فلسطین کے سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ اسرائیلی طیاروں نے نصیرات اور رفح میں حماس کی فوجی تنصیبات پر بمباری کی ہے لیکن ان سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

اس ماہ کے اوائل میں اسرائیلی فوج اور غزہ کی حکمراں حماس کی سکیورٹی فورسز کے درمیان سرحدی علاقے میں جھڑپیں ہوئی تھیں۔ 2014ء میں غزہ جنگ کے خاتمے کے بعد صہیونی فوج اور فلسطینیوں کے درمیان یہ پہلی شدید لڑائی تھی۔

اسرائیلی فوج کا کہناہے کہ 2014ء میں اس جنگ کے خاتمے کے بعد سے غزہ کی پٹی سے اسرائیلی علاقے کی جانب کم سے کم چالیس راکٹ فائر کیے جاچکے ہیں۔ صہیونی فوج نے حماس پر ان تمام راکٹ حملوں کا الزام عاید کیا ہے حالانکہ ان میں سے بہت سے راکٹ فلسطین کی دوسری مزاحمتی تنظیموں نے چلائے تھے۔

داعش سے روابط رکھنے والے بعض جنگجو گروپوں نے گذشتہ مہینوں کے دوران اسرائیل پر متعدد راکٹ حملوں کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا لیکن اسرائیل نے ان تمام حملوں کا حماس ہی کو ذمے دار قرار دیا تھا۔