.

معرکہ فلوجہ سعودی مخالف فرقہ وارانہ جنگ بنانے کی کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں دارالحکومت بغداد سے 69 کلومیٹر مغرب میں واقع اہم شہر فلوجہ کو داعش تنظیم کے قبضے سے آزاد کرانے کے لیے پیر کے روز اہم معرکہ شروع ہوا۔ اگرچہ عراقی وزیراعظم کی حکومت نے اس معرکے کو فرقہ وارانہ تنازعات سے دور رکھنے کی کوشش کی تاہم اس کے باوجود عراق میں رسوخ رکھنے والی طاقتوں کے زیرانتظام ایسی ملیشیائیں ہیں جو اس لڑائی پر فرقہ وارانہ چھاپ لگانے کے لیے پورا زور لگا رہی ہیں، گویا کہ فلوجہ کی لڑائی شیعہ اور سنیوں کے درمیان جنگ ہے۔

عراق کے شیعوں کو اس طرح کے عندیے بھی دیے جا رہے ہیں کہ بعض ممالک کا دوست گروپ وہ فلوجہ کو آزاد کرانے کے ساتھ ہے جب کہ دشمن ملکوں کا ایک گروپ وہ فلوجہ کی آزادی کے خلاف ہے۔ اس بات میں ذرہ برابر شک نہیں کیا جا سکتا کہ ان فرقہ وارانہ ملیشیاؤں کے تیر سعودی عرب کے خلاف ہیں۔ اگرچہ داعش تنظیم سعودی عرب کو اپنا بدترین دشمن قرار دیتی ہے بالخصوص اس لیے کہ سعودی عرب داعش کے خلاف بین الاقوامی اتحاد میں شریک ہے۔

"فرقہ وارانہ جنگ" کے عنوان کے تحت سعودی عرب میں موت کے گھاٹ اتارے جانے والے دہشت گرد نمر النمر کی تصاویر کو فلوجہ میں داعش کے خلاف استعمال کیے جانے والے میزائلوں پر لگایا گیا۔ فارسی زبان میں نشریات پیش کرنے والے فرانسیسی ریڈیو " آر ایف اے " نے فلوجہ کے معرکے کو فرقہ وارانہ جنگ میں تبدیل کرنے کے لیے جاری حالیہ کوششوں سے متعلق ایک رپورٹ جاری کی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ " فلوجہ میں داعش کے ٹھکانوں پر حملے کے آپریشن میں ملیشیاؤں کو زمینی طور پر مرکزی قوت کی حیثیت حاصل ہے۔ تاہم بغداد میں حکام اور پاپولر موبئیلازیشن فورسز جو داعش اور عراقی فورسز کے درمیان جنگ کو غیرفرقہ وارانہ باور کراتے ہیں ان کی کوششوں کے باوجود یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ پاپولر موبیلائزیشن کی صفوں میں بعض قوتیں اس موقف سے متفق نہیں ہیں"۔

"عراقی حزب اللہ" اور نمر النمر کی تصاویر

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران نواز "عراقی حزب اللہ" کی ملیشیاؤں کی جانب سے فرقہ واریت کی کوشش کے سلسلے میں فلوجہ میں داعش کے خلاف استعمال ہونے والے راکٹ لانچروں پر دہشت گرد نمر النمر کی تصاویر چسپاں کر کے ان لانچروں کی تصاویر اور وڈیو بھی جاری کی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق اس "عمل سے بہت سے سوال جنم لیتے ہیں"۔

یاد رہے کہ عراق میں ایران کے حلیف، سعودی عرب اور داعش کو ایک ہی فرضی خانے میں فٹ کرنے اور اس مفروضے کو شیعہ عربوں کے ذہنوں میں داخل کرنے اور علاقائی ایجنڈوں کے مفاد کی خاطر ایسے غیرحقیقی منظرنامے تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جن کا فلوجہ کے معرکے سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں۔

رپورٹ میں باور کرایا گیا ہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ داعش کے خلاف لڑائی میں شریک شیعہ ملیشیاؤں پر، فرقہ وارانہ کارروائیوں اور داعش کے زیرکنٹرول سنی اکثریت والے علاقوں میں آبادی کے ساتھ بین الاقوامی قوانین کے مطابق سلوک کرنے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

اس دوران "آر ایف اے" ریڈیو نے بغداد کے شمال میں واقع سنی اکثریت والے شہر "تكريت" کی واپسی کے لیے ہونے والی لڑائیوں سے متعلق رپورٹوں کا بھی حوالہ دیا ہے جہاں بعض ملیشیاؤں نے مقامی آبادی کے گھروں پر حملہ کر کے انہیں آگ لگا دی تھی۔

دہشت گردی کے خلاف سعودی عرب کی پالیسی واضح ہے

ادھر عراق میں سعودی عرب کے سفیر ثامر السبہان نے اپنے اکاؤنٹ پر کیے گئے ایک ٹوئیٹ میں کہا ہے کہ "عراقی وزیر دفاع کے ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کا معاملہ زیربحث آیا ہے۔ انہوں نے باور کرایا ہے کہ فلوجہ کو داعش سے آزاد کرانے کا آپریشن عراقی فوج اور اور بین الاقوامی اتحاد کریں گے"۔

السبہان نے دہشت گرد جماعتوں کے حوالے سے سعودی عرب کے دائمی موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ "دہشت گردی، دہشت گردوں، ان کو اشتعال دلانے والوں، ان کی مدد کرنے والوں اور فرقہ واریت کی تمام صورتوں کے خلاف مملکت کی پالیسی بالکل واضح ہے"۔