.

فوج فلوجہ آپریشن میں شہریوں کا تحفظ یقینی بنائے: السیستانی

فلوجہ کے عوام خود کو غیر جانب دار رکھیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے سرکردہ شیعہ مذہبی رہ نما علی السیستانی نے عراقی فوج اور حشد الشبعی ملیشیا پر زور دیا ہے کہ وہ فلوجہ میں دولت اسلامی ’داعش‘ کے خلاف آپریشن کے دوران عام شہریوں کا تحفظ یقینی بنائیں۔ انہوں نے فلوجہ کے عوام پر بھی زور دیا کہ وہ موجودہ لڑائی میں خود کو غیر جانب دار رکھیں۔

علی السیستانی کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں جاری کیا گیا جب فلوجہ میں عراقی فورسز اور اس کی حامی شیعہ ملیشیا حشد الشعبی داعش کے خلاف لڑائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس لڑائی میں سنی اکثریتی علاقے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان کے خدشات کے ساتھ ساتھ فرقہ وارانہ کشیدگی کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

علی السیستانی پہلے رہ نما نہیں جنہوں نے فلوجہ کے عوام کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔ کئی دوسرے لیڈر بھی فلوجہ کےشہریوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیلیں کرچکے ہیں۔ خیال رہے کہ فلوجہ عراق کا پہلا شہر ہے جو سنہ 2014ء میں داعش کے قبضے میں چلا گیا تھا۔

علی السیستانی کے مندوب الشیخ عبدالمہدی الکربلائی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ عراقی فوج اور ملیشیا کو سنت نبوی کے مطابق جنگ کرنا چاہیے کیونکہ اللہ کے رسول نےجنگ کے حوالے سے واضح طورپر ہدایت کی تھی کہ ’غلو نہ کیا جائے، لاشوں کا مثلہ نہ بنایا جائے، غدر نہ کیا جائے، بوڑھے، بچے اورعورت کو ہلاک نہ کیا جائے اور ماسوائے مجبوری کے درخت نہ کاٹے جائیں‘۔