.

ایران : شام میں ہلاک 29 افغان جنگجوؤں کی تدفین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی میڈیا کے مطابق گزشتہ چند روز کے دوران "فاطميون" ملیشیا سے تعلق رکھنے والے 29 افغانوں کی ایران کے مختلف علاقوں میں تدفین کی گئی۔ یہ تمام افراد شام کے شمال میں خان طومان اور حلب کے نواحی علاقوں میں ہونے والے معرکوں میں ایرانی پاسداران انقلاب کی طرف سے لڑتے ہوئے مارے گئے تھے۔

دوسری جانب پاسداران انقلاب میں فیلق القدس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کا کہنا ہے کہ "ایران انقلاب کے بغیر افغانستان جیسا ہو سکتا تھا"۔ سلیمانی نے یہ بھی دعوی کیا کہ "اگر شام میں ایران کی فوجی مداخلت نہ ہوتی تو داعش تنظیم پورے ملک پر قبضہ کر لیتی"۔

یاد رہے کہ خان طومان میں النصرہ محاذ کے زیرقیادت حملے میں ایرانی صفوں میں لڑنے والے 83 سے زیادہ مسلح ارکان مارے گئے تھے۔ ان میں اکثریت ان افغانوں کی تھی جن کو پاسداران انقلاب نے اگلی صفوں میں جھونک دیا تھا۔ مارے جانے والوں میں ایرانی اور لبنانی جنگجو بھی شامل تھے۔

تہران نے حال ہی میں فیصلہ کیا ہے کہ افغان ملیشیاؤں کے مارے جانے والے ارکان کے خاندانوں کو ایرانی شہریت پیش کی جائے گی۔ ان افراد کو بطور جنگجو بھرتی کرنے کے لیے پاسداران انقلاب ایران میں مقیم افغان پناہ گزینوں کی معاشی اور قانونی پوزیشن کا فائدہ اٹھا کر انہیں ماہانہ 500 سے 700 ڈالر کے ساتھ ساتھ ان کے اور ان کے خاندان کے لیے ایران میں سکونت کے دستاویزات بھی فراہم کرتے ہیں۔

آخری اعداد و شمار کے مطابق تقریبا 10 ہزار افغان جنگجو موجود ہیں جن میں اکثریت ہزارہ قومیت کے شیعہ افراد کی ہے۔ ان افراد کو ایرانی پاسداران انقلاب کے ونگ فیلق القدس کی جانب سے خطے میں مداخلت کے لیے تربیت اور اسلحہ فراہم کیا گیا۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم "ہیومن رائٹس واچ" نے رواں سال جنوری میں اپنی ایک رپورٹ میں ایسے شواہد جمع کیے تھے جن سے معلوم ہوا کہ ایرانی پاسداران انقلاب نے نومبر 2013 سے ایران میں موجود ہزاروں افغان پناہ گزینوں کو بھرتی کیا جن میں بعض افراد کی جبری بھرتی بھی شامل ہے۔

ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای کے قریب سمجھے جانے والے ایک پریش گروپ "انصار حزب الله" کے کمانڈر جنرل سعید قاسمی نے رواں سال مارچ میں شام کی جنگ میں مارے جانے والے افغانوں (فاطمی ملیشیا) اور پاکستانیوں (زینب ملیشیا) کی قم شہر کے قبرستان میں تدفین کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایاتا تھا اس لیے کہ یہ لوگ "نامعلوم شناخت" کے حامل تھے۔

یاد رہے کہ متعدد مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران نے ہی اپنی شدت پسند ملیشیاؤں کو لا کر داعش اور دیگر دہشت گرد جماعتوں کے شام میں آنے کی راہ ہموار کی اور ایک سرکش آمر کے خلاف شامی عوام کی انقلابی تحریک کو فرقہ وارانہ جنگ میں تبدیل کردیا۔ اس کا مقصد صرف اپنے مفادات کو پورا کرنا اور خطے میں اپنے توسیعی عزائم کو حقیقت کا روپ دینا تھا۔