.

شام : داعش کی جانب سے قیدیوں پر کیمیائی تجربات کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں اپوزیشن گروپوں کے خصوصی سیکورٹی ذرائع نے "داعش" تنظیم کی جانب سے اپنے قیدیوں پر کیمیائی تجربات کرنے سے متعلق تفصیلات کا انکشاف کیا ہے۔ شام کے صوبے الحسکہ کے شہر الشدادی میں داعش کے حراست کے خصوصی مراکز میں ہونے والے یہ تجربات ان قیدیوں پر کیے گئے جن کے خلاف تنظیم نے سزائے موت کے احکامات جاری کیے تھے۔ یہ تجربات الشدادی شہر پر سیریئن ڈیموکریٹک فورسز اور کرد تحفظ کے یونٹوں کے کنٹرول حاصل کرنے سے پہلے کیے گئے جن کا مقصد کیمیائی ہتھیاروں کے سلسلے میں پیش رفت کو یقینی بنانا تھا۔

ذرائع کے مطابق داعش تنظیم میں فرانس، تیونس اور لیبیا تینوں ملکوں کے دو دو جنگجوؤں (ابو المعتصم الليبی، ابو محمد الليبی، ابو فاطمہ التونسی، ابو محمد الفرنسی، ابوالخير الفرنسی، ابوعبير التونسی) نے قیدیوں پر کیمیائی تجربات کرنے کی ذمہ داری سنبھالی تاکہ کیمیائی مواد تیار کیا جاسکے۔ یہ مواد المركدہ اور دير الزور میں ابھی تک داعش تنظیم کے پاس ہے۔

فراہم کردہ معلومات کے مطابق ان تجربات کے نتیجے میں 15 قیدی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان میں بعض کو ہاتھ میں انجیکشن لگایا جاتا جس کے کچھ دیر بعد وہ قیدی چیخنا چلانا شروع کردیتا اس وقت پھر دستانے اور ماسک پہنے جیلر اور اوپر کی سطروں میں مذکور چھ افراد میں سے کوئی ایک ساتھ آکر اس قیدی کو اچھی طرح قابو کرلیتے۔

ابو محمود کی عرفیت رکھنے والے جیل کے ایک پہرے دار کے مطابق " تجربے کے بعد ایک کمزور سے قیدی کی لاش جب باہر نکالی گئی تو میں نے دیکھا کہ وہ پھول چکی تھی اور اس کا رنگ نیلا ہوچکا تھا"۔

پہرے دار کا مزید کہنا تھا کہ " ابوالمعتصم الليبی نے پانچ قیدیوں کو خصوصی جیل میں علاحدہ کردیا جس کے کچھ دیر بعد ان کی چیخوں کی آوازیں سنائی دی گئیں۔ جب ہم نے جیل کا رخ کیا تو ان لوگوں نے ہمیں قریب آنے سے روک دیا اور پھر رات 12 ان قیدیوں کی لاشیں باہر نکالی گئیں تو وہ مسخ ہوچکی تھیں"۔

ذرائع نے دیگر کیمیائی تجربات کے بارے میں بھی بتایا جن کی نگرانی "ابو محمد الفرنسی" نے کی۔ موت کی سزا پانے والے قیدیوں پر دو طرح کے مواد کو انجیکشن میں استعمال کے ذریعے تجربات کیے گئے۔ ان میں ایک قیدی تو مواد سونگھنے کے فورا بعد ہی بے ہوش ہوگیا جب کہ اسی مواد نے ایک دوسرے قیدی کے گردے کو ناکارہ کردیا۔

ذرائع نے کیمیائی ہتھیاروں کے تجربے کے حوالے سے بتایا کہ "الشدادی شہر سے نکل جانے سے کئی روز پہلے داعش تنظیم نے تین قیدیوں کو ابوالخیر الفرنسی کی گاڑی میں المرکدہ قصبے سے باہر منتقل کیا۔ اس کے بعد قیدیوں کو باندھ کر ان کے نزدیک آر پی جی فائر کیا گیا جس کے نتیجے میں تینوں قیدی سانس میں زہریلی گیس داخل ہوجانے کے سبب فوری طور پر دم توڑ گئے اور ان کی لاشیں کٹی پھٹی ہونے کے ساتھ جل بھی گئی تھیں"۔