.

عرب لیگ نے لیبیا کی مخلوط قومی حکومت تسلیم کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب لیگ نے لیبیا میں مختلف دھڑوں پر مشتمل قومی حکومت کو ملک کی نمائندہ قرار دیتے ہوئے عرب وزراء خارجہ کے اجلاس میں لیبی وزیرخارجہ کو حکومت کے سرکاری نمائندے کے طور پر قبول کر لیا ہے ،تاہم طبرق میں قائم لیبی حکومت اور پارلیمنٹ نے اس پیش رفت کو مسترد کر دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عرب لیگ کی جانب سے جاری کردہ تازہ بیان میں کہا گیا ہے کہ لیبیا کی مخلوط قومی حکومت کو ملک کی نمائندہ قرار دیتے ہوئے اس کے مقرر کردہ محمد طاھر سیالہ کو لیبیا کے باضابطہ سفیر کے طور پر تسلیم کرتی ہے۔ عرب لیگ نے بھی لیبیا میں اپنا سفیر مقرر کر دیا ہے۔

قاہرہ میں عرب لیگ کے اجلاس کے موقع پر تنظیم کے سیکرٹری جنرل نبیل العربی نے کہا کہ تمام عرب ممالک لیبیا میں سیاسی عمل کے حامی ہیں مگر عالمی اور علاقائی ممالک کی کوششوں سے فائز السراج کی سربراہی میں قائم کردہ حکومت کو ملک کی نمائندہ حکومت قرار دیتے ہیں۔

ادھر لیبیا کی عقیلہ صالح کی قیادت میں قائم کردہ پارلیمنٹ اور ان کے وزیراعظم عبداللہ الثنی نے عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل کے نام اپنے مکتوب میں قومی حکومت کو ملک کی نمائندہ قرار دینے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے اپنے مکتوب میں نبیل العربی کو لکھا ہے کہ وہ لیبی قوم کو آپس میں تقسیم کرنے کی سازشیں بند کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ قومی حکومت کو لیبیا کی حقیقی نمائندہ قرار دینے کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں اور ان کی ذمہ داری عرب لیگ پرعاید ہو گی۔