.

ایران کا اپنے شہریوں کو حج سے محروم رکھنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے وزیر برائے ثقافت و اسلامی رہ نمائی علی جنتی نے رواں سال ایرانی حاجیوں کو فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے دیار مقدسہ نہ بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی وزیر کے مطابق ایرانی حج مشن کی ضد اور حج پروٹوکول پر دستخط سے انکار کے سبب سعودی حکام کے ساتھ بات چیت میں اتفاق رائے تک نہیں پہنچا جاسکا۔

ایران کی سرکاری نیوز ایجسنی "اِرنا" کے مطابق علی جنتی نے اتوار کے روز پریس میں دیے گئے بیان میں تمام تر ذمہ داری سعودی عرب پر ڈال دی۔ ادھر سعودی وزارت برائے حج و عمرہ نے ہفتے کے روز تصدیق کی تھی کہ ایرانی جانب نے ہی پروٹوکول پر دستخط سے انکار کیا۔ وزارت کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی حجاج کے امور سے متعلق پروٹوکول پر دستخط سے قبل اچانک ہی مملکت سے کوچ کرنے کا فیصلہ کرلیا"۔

اس سے قبل ریاض اور تہران سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے منظور شدہ طریقہ کار کے مطابق ایرانی حجاج کے لیے ایران سے ہی الکٹرونک ویزے جاری کرنے پر متفق ہوگئے تھے۔ اس کے علاوہ ایرانی حجاج کی آمد و رفت کو سعودی عرب اور ایران کی قومی ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے درمیان تقسیم اور ایرانی وفد کی جانب سے سوئس سفارت خانے کے ذریعے سفارت نمائندگی کی اجازت کی درخواست پر آمادگی بھی طے پاگئی تھی۔

یاد رہے کہ ایران ایسی شرائط پر اصرار کررہا تھا جو حج کے معروف مناسک کے ذیل میں کسی طور نہیں آتیں ہیں۔ اس نے حج پروٹوکول میں مخصوص مسلکی امور کے قیام کو شامل کرنے پر زور دیا جن میں "دعاء کمیل ، براءت کی رسم اور زائر کا کتابچہ" شامل ہیں۔ سعودی عرب کے نزدیک اس نوعیت کے مجمعوں سے اسلامی دنیا کے دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے حاجیوں کی نقل وحرکت میں رکاوٹ پیدا ہوگی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران حج کو سیاست میں ملوث کرنے پر مُصر ہے اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کے سامنے ریاض حکومت پورے عزم کے ساتھ ڈٹ گئی ہے۔