.

داعش کی جانب سے "لونڈیوں" کی آن لائن فروخت.. قیمت 8000 ڈالر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عورتوں کو منڈیوں میں فروخت کرنے اور انہیں جنسی "لونڈیوں" اور "خادماؤں" کے طور پر استعمال کرنے کے بعد اب داعش تنظیم کے عناصر نے حال ہی میں ٹکنالوجی کا سہارا لیا ہے۔ تنظیم کے ارکان نے اغوا کی گئیں یزیدی عورتوں کی سماجی رابطے کی ویب سائٹوں بالخصوص فیس بک پر فروخت کا آغاز کر دیا ہے۔

امریکی اخبار "واشنگٹن پوسٹ" کے مطابق ابو اسعد الالمانی (جرمن) ایک عورت کی تصویر لگا کر اس کے نیچے یہ عبارت لکھ دی "برائے فروخت"۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نے مزید یہ لکھا کہ " ان تمام برادران کے لیے جو ایک لونڈی خریدنے کا سوچ رہے ہیں۔ یہ ایک 8000 ڈالر میں دستیاب ہے"۔ کچھ گھنٹوں کے بعد اس نے ایک دوسری عورت کی تصویر پوسٹ کر کے لکھا کہ " یہ بھی تقریبا 8 ہزار ڈالر کی ہے۔ ہاں یا نہیں؟"

دوسری جانب فیس بک انتظامیہ نے تصاویر کے پوسٹ کیے جانے کے بعد چند گھنٹوں بعد ہی ان کو ہٹا دیا۔

یاد رہے کہ عورتوں کی آن لائن تجارت حال ہی میں داعش تنظیم کے عناصر کے درمیان پھلی پھولی ہے۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ عناصر کے سوشل میڈیا پر اکاؤنٹس ہیں جن پر صرف عورتوں کی فروخت کا عمل نہیں ہوتا بلکہ ان پیجوں پر رہ نمائی کا باقاعدہ لٹریچر بھی موجود ہوتا جس میں عورت کے ساتھ معاملہ کرنے کے اصول و ضوابط بیان کیے گئے ہیں۔ ان اصولوں میں سے یہ بھی ہے کہ داعشی فقیہ کے مطابق "نوجوان لونڈیوں کے ساتھ جنسی تعلق کا عمل جائز ہے"۔

"عورتوں کو فروخت کرنے والا" الرقہ میں مقیم ہے اور چندہ جمع کرتا ہے

فیس بک پر اکاؤنٹ کا حامل ابو اسعد الالمانی شام میں داعش کے گڑھ الرقہ شہر کے نواح میں رہتا ہے۔ وہ مذکورہ علاقے میں تنظیم کی سرگرمیوں سے مکمل طور باخبر رہتا ہے اور اپنے اکاؤنٹ کو عطیات جمع کرنے کے لیے باقاعدگی سے استعمال کرتا ہے۔

داعش تنظیم نے عورتوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو یرغمال بنایا ہوا ہے جن کو وہ "خادمائیں" اور "لونڈیاں" شمار کرتی ہے۔ تنظیم پر دباؤ اور اس کے محاصرے میں اضافے کے ساتھ ان عورتوں کی مشکلات بھی بڑھ جائیں گی اس لیے کہ انہیں زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ خرید و فروخت سے دوچار ہونا پڑے گا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ایسی صورت میں انہیں بمباری کے سبب موت کے منہ میں جانے کا بھی خطرہ درپیش ہوگا۔

داعش کے قبضے میں 1800 عورتیں

اس منظرنامے کے بارے میں واشنگٹن میں مڈل ایسٹ میڈیا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اسٹیفن اسٹالنسکی کا کہنا ہے کہ "ہم وسیع پیمانے پر داعش کے وحشیانہ پن کو دیکھ چکے ہیں۔ تاہم گزشتہ دو برسوں میں جو چیزیں سامنے آئی ہیں انہوں نے سب کو حیران کردیا ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے عورتوں کی فروخت تنظیم کی بربریت کی مثال کے سوا کچھ نہیں"۔

ہیومن رائٹس واچ تنظیم کے مطابق داعش کے قبضے میں موجود یزیدی عورتوں اور لڑکیوں کی تعداد 1800 کے قریب ہے۔