.

سعودی عرب اور برطانیہ خطے میں ایرانی مداخلت روکنے پر متفق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر کا کہنا ہے کہ وہ اپنے برطانوی ہم منصب فلپ ہیمنڈ کے ساتھ اس بات کی ضرورت پر متفق ہوگئے ہیں کہ ایران کو خطے کے امور میں مداخلت سے روکا جائے۔ انہوں باور کرایا کہ ایران نے شام اور ایران میں دہشت گردی اور ملیشیاؤں کی سپورٹ کے ذریعے خود کو علاحدہ کیا ہے اور اس پر لازم ہے کہ اپنی پالیسیاں تبدیل کرے۔

جدہ میں فلپ ہیمنڈ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں الجبیر نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے فرقہ وارانہ ملیشیاؤں کا عراق بھیجا جانا ناقابل قبول امر ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے زور دیا کہ عراق میں فتنہ پھیلنے کا سبب ایران ہے۔ سعودی وزیر خارجہ کے مطابق ایران نے حج پروٹوکول پر دستخط نہیں کیے اور وہ انارکی پیدا کرنا چاہ رہا ہے۔

عادل الجبیر نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ خلیج تعاون کونسل کے ممالک برطانیہ میں سب سے بڑے سرمایہ کار ہیں اور یہ ممالک اپنا دفاعی ساز و سامان برطانیہ سے ہی خریدتے ہیں۔

الجبیر نے باور کرایا کہ بات چیت میں فلسطینی امن عمل کو دوبارہ زندہ کرنے پر بھی تبادلہ خیال ہوا اور خلیجی ممالک اور برطانیہ کے درمیان متعدد معاملات میں نقطہ ہائے نظر میں مطابقت پائی جاتی ہے جن میں اہم ترین شام، یمن ، عراق اور لیبیا کے معاملات ہیں۔

سعودی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ بات چیت میں یمن کے مسئلے کی تازہ ترین پیش رفت، بحران کے حل کے لیے کویت کی کوششیں اور یمن کی تعمیر نو جیسے موضوعات بھی زیر بحث آئے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ کی خواہش ہے کہ تعمیر نو کے سلسلے میں وہ خلیج تعاون کونسل کے ممالک کے ساتھ شریک ہو۔

دوسری جانب برطانوی وزیر خارجہ فلپ ہیمنڈ کا کہنا ہے کہ خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک اور برطانیہ خطے کے عوام کی بہبود اور ان کی ترقی کو یقینی بنانے کے حوالے سے ویژن رکھتے ہیں، انہوں نے باور کرایا کہ متعدد امور میں جانبین کے ویژن میں مطابقت پائی جاتی ہے۔

ہیمنڈ نے زور دے کر کہا کہ برطانیہ ایران کی خلاف ورزیوں اور اس کے میزائل تجربات پر اپنی آنکھیں نہیں موندے گا۔

برطانوی وزیر خارجہ نے باور کرایا کہ ان کا ملک سعودی عرب میں اقتصادی تبدیلی کے پروگرام کی بھرپور سپورٹ کرے گا۔