.

ایران کے ساتھ گٹھ جوڑ، 5 بحرینی شہریوں کو عمر قید

سزا پانے والے مجرموں کی بحرینی شہریت بھی منسوخ کی جائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بحرین میں عدالت مرافعہ نے 5 شہریوں کے خلاف عمر قید اور شہریت سے محروم کیے جانے کی سزا کی توثیق کر دی ہے۔ پانچوں افراد پر منفی سرگرمیوں کے لیے ایران کے ساتھ بات چیت کے الزام میں فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

اٹارنی جنرل احمد الحمادی کے مطابق "عدالت مرافعہ نے پیر کے روز ایک غیر ملکی ریاست کے ساتھ گٹھ جوڑ اور رابطے اور اسلحے اور گولہ بارود کے استعمال کی تربیت سے متعلق مقدمے کے حوالے سے توثیقی فیصلہ جاری کیا"۔

اس سے قبل اعلی فوج داری عدالت نے گزشہ برس نومبر میں دہشت گرد کے مقدمات میں پانچ شہریوں کو عمر قید، شہریت سے محرومی اور ضبط شدہ املاک کی قرقی کی سزا سنائی تھی۔

دوران تحقیق یہ انکشاف ہوا کہ مذکورہ افراد میں سے دو نے اسلحے اور گولہ بارود استعمال کرنے کی تربیت اس لیے حاصل کی تھی تاکہ دہشت گرد کارروائیوں کا ارتکاب کیا جاسکے۔ بقیہ تین افراد نے اول الذکر دونوں افراد کو تربیت حاصل کرنے اور تخریبی کارروائیوں کے لیے اکسایا اور ان کی ذہن سازی کی۔ اس کے علاوہ ان دونوں افراد کو سفر کرنے، مالی رقوم اور فضائی ٹکٹ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ایرانی پاسداران انقلاب کے اہل کاروں سے رابطے کے سلسلے میں میں سہولت کار کا کردار بھی ادا کیا تاکہ ایرانی کیمپوں میں ان کی تربیت مکمل ہو سکے۔

الوفاق سوسائٹی کے سکریٹری جنرل کو 9 سال قید کی سزا

دوسری جانب اٹارنی جنرل ہارون الزیانی کے ایک بیان کے مطابق ہائی کورٹ نے شیعہ تنظیم الوفاق نیشنل سوسائٹی کے سکریٹری جنرل علی سلمان کے خلاف مخلتف الزامات کے تحت مجموعی طور پر نو سال قید کی سزا سنائی ہے۔ ملزم پر طاقت اور غیرآئینی ذرائع کے ساتھ حکومتی نظام تبدیل کرنے کی سازش، لوگوں میں اعلانیہ طور پر فرقہ واریت کا اشتعال پھیلانے، حکومتی کمیشن کے ارکان کو اعلانیہ طور پر کرائے کے جنگجو قرار دینے اور دیگر الزامات تھے۔

عدالتی کارروائی کے دوران ملزم کی تقاریر اور خطابوں کی ریکارڈنگ بھی پیش کی گئی جو اس نے عام تقریبات اور محافل میں کی تھیں۔ ان میں اس نے واضح اور کھلے انداز میں آئین اور قانون کے احکامات کی خلاف ورزی کی دعوت دی تھی۔ ملزم نے ایک موقع پر یہ بیان بھی دیا تھا کہ اس نے اپوزیشن کوتجویز پیش کی ہے کہ وہ شامی اپوزیشن کے طریقہ کار کو اپنائے تاکہ مملکت ایک عسکری معرکے میں تبدیل ہوجائے۔

ملزم نے اپنے تمام خطبات ، بیانات اور تقاریر کا ان کے مکمل متن کے ساتھ اعتراف کیا۔

مقدمے کی کارروائی کے دوران ملزم کے ذاتی بیانات کو مکمل توجہ سے سنا گیا اور اس کو اپنے دفاع کا پورا موقع دیا گیا۔ بحرین کے عدالتی نظام کے تحت قانونی شرائط پوری ہونے کی صورت میں ملزم کو کورٹ آف کیسیشن میں اس فیصلے کے خلاف اپیل کا حق حاصل ہو گا۔