.

مال غنیمت میں چھینا ٹینک روس کے ذریعے اسرائیل کو واپس

اپوزیشن کا اسد رجیم سے اسرائیلی سرحد محفوظ بنانے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس اور اسرائیل کے ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ سنہ 1980ء کے عشرے میں لبنان میں شامی فوج کے ہاتھ لگنے والے اسرائیل کے ایک ٹینک کو روس کے ذریعے تل ابیب کو واپس کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

اسرائیلی اخبارات نے حکومت کے ایک ذریعے کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ شامی فوجیوں کے ہاتھ لگنے والا اسرائیلی ٹینک اس وقت روسی فوج کے پاس ہے جسے ماسکو کے ایک میوزیم میں رکھا گیا ہے۔ تاہم اس کی اسرائیل کو واپسی کی بات چیت چل رہی ہے۔

اخبارات بیانات اور رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے چند ماہ قبل روسی صدر کے ساتھ ہونے والی ایک ملاقات میں بھی ٹینک کی تل ابیب کو واپسی کے بارے میں بات کی تھی۔ذرائع کا کہناہے کہ روسی صدر ولادی میر پوتن نے یقین دلایا گیا تھا کہ وہ ایک صدارتی فرمان کے ذریعے اسرائیلی ٹینک اسے واپس کردیں گے۔

شامی فوج کی جانب سے مال غنیمت کے طور پر لبنان میں چھینے گئے اسرائیلی ٹینک کی اب صہیونی ریاست کو واپس کیے جانے پر شامی حکومت کی طرف سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ گو کہ یہ ٹینک اس وقت ماسکو میں ہے مگر اسے شامی وزارت دفاع کی ملکیت اور فوج اور ریاست کامال غنیمت قرار دیا جاتا ہے۔

شام فوج کے ہاتھ لگنے والے اسرائیلی ٹینک کی تل ابیب کو واپسی کی افواہیں پچھلے سال ستمبر میں اس وقت بھی گردش کرنے لگی تھیں جب روس نے شام میں صدر بشار الاسد کے دفاع میں اپنی فوجیں اتاریں تھیں۔

شام میں روسی فوج کی مداخلت کے بعد اسرائیلی وزیراعظم اور دیگر وزراء تواترکے ساتھ روس کے دورے کرتےرہے ہیں۔ ان دوروں میں بھی اسرائیلی ٹینک کی واپسی کے بارے میں بات چیت کی گئی۔

پرانے ماڈل کے ٹینک کو روس کی جانب سے اسرائیل کے حوالے کیے جانے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی ہے۔ ممکن ہے اسرائیل ٹینک کی شامی فوج کے قبضے میں چلے جانے کی صورت میں ملنے والی سبکی کا مداوا کرنے کے لیے ناکارہ ہونے والا ٹینک واپس لینے کی کوشش کررہا ہو۔

خیال رہے کہ لبنان میں سنہ 1980ء میں اسرائیلی فوج کے حملے کے دوران شامی فوج نے مداخلت کرکے اسرائیل کے کئی ٹینک اور گاڑیاں تباہ کردی تھیں اور ایک ٹینک کو مال غنیمت کے طورپر قبضے میں لے لیا گیا تھا۔

دوسری جانب شامی اپوزیشن نے اسد رجیم پر اسرائیل کے ساتھ سرحدوں کے تحفظ کے معاملے میں ساز باز کا الزام عاید کیا ہے۔ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ سنہ 1970ء میں اسرائیلی اور شامی افواج کے درمیان طے پائے جنگ بندی معاہدے کے بعد دمشق حکومت اسرائیلی سرحدوں کی محافظ کا کردار ادا کرتی رہی ہے۔