.

ایرانی صدر کے بھائی کی گرفتاری کا سبب بدعنوانی ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی میڈیا کے مطابق ملک کے صدر حسن روحانی کے بھائی حسين فريدون کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ صدر کے خصوصی دفتر کے معاون اور نیوکلیئر پروگرام سے متعلق مذاکراتی ٹیم کے سابق رکن فریدون کی گرفتاری بدعنوانی اور مالی غبن کے الزام کے تحت عمل میں آئی ہے۔ ایران کے سخت گیر حلقوں نے صدر روحانی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کے دفتر کو "بدعنوانی کے نیٹ ورک کا اڈہ" قرار دیا جس کو ان کے بھائی چلا رہے ہیں۔

اسی سیاق میں ایران کے اٹارنی جنرل نے اتوار کے روز "تسنيم" نیوز ایجنسی کی جانب سے فریدون کی حراست کی خبر کی تصدیق سے متعلق پوچھے گئے سوال پر تبصرے سے انکار کر دیا جب کہ روحانی کے قریبی ایک باخبر ذریعے نے صدر کے بھائی کی گرفتاری کی خبر کو بے بنیاد قرار دیا۔

فریدون کی گرفتاری کی خبر کے درست یا غلط ہونے سے قطع نظر، یہ بات تو طے ہے کہ صدر کے بھائی کو تقریبا دو ماہ سے کابینہ کے اجلاسوں میں شرکت سے روک دیا گیا ہے۔ ممانعت کا اطلاق ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای کے حکم پر عمل میں آیا ہے ۔

اس سے قبل اصلاح پسندوں کی ویب سائٹ "سحام نيوز" نے بتایا تھا کہ خامنہ ای اور روحانی کے درمیان اختلافات میں شدت آنے کے بعد ایرانی صدر کے دفتر کے چیف محمد نہاوندیان کو بھی کابینہ کے اجلاسوں میں آنے سے منع کردیا گیا۔

مبصرین کے مطابق روحانی کی بطور ملکی صدر حیثیت کو کمزور کرنے کے لیے مرشد اعلی علی خامنہ ای نے مارچ کے اواخر میں ایرانی صدر کے نائب اول اسحاق جہانگیری سے براہ راست مطالبہ کیا تھا کہ وہ کابینہ کے امور کو خود چلائیں۔

"بروکروں کے گینگز کا اڈہ"

سابقہ پارلیمنٹ میں سخت گیر بنیاد پرست بلاک سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ علی رضا زاکانی نے فروری میں ایک پریس کانفرنس میں انکشاف کیا تھا کہ "صدر روحانی کے بھائی نے صدارتی دفتر کو بروکروں کے دہشت پھیلانے والے گینگز کے اڈے میں تبدیل کردیا ہے جو نیوکلیئر معاہدہ طے پا جانے کے بعد سے بیرون ملک رابطے کے ذریعے خوب مال بنارہے ہیں اور دھوکہ دہی ، رشوت اور بدعنوانی کے راستے خطیر رقوم حاصل کر رہے ہیں"۔

ادھر اصلاح پسندوں کا کہنا ہے کہ بنیاد پرستوں کی جانب سے روحانی کے خلاف یہ پروپیگنڈہ روحانی سے انتقام کے سلسلے میں کیوں کہ روحانی نے بدعنوانی کے خلاف مہم شروع کی تھی جس کے دوران سابق صدر احمدی نژاد کے دو معاونین، درجنوں ذمہ داران جن میں اکثریت کا تعلق بنیاد پرست بلاک سے ہے اور پاسداران انقلاب کی قریبی شخصیات کو گرفتار کیا گیا۔ ان افراد پر بڑے پیمانے پر چوری اور مالی غبن کے الزامات تھے۔

زاکانی نے روحانی کی حکومت کے ارکان پر تیل، مواصلات خزانہ اور دیگر وزارتوں میں بدعنوانی میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ "بیژن زنگنہ (وزير تیل) ، سيروس ناصری (سابق مذاکرات کار) اور حسن فريدون (صدر روحانی کے بھائی) یہ تین افراد ہیں جو بدعنوانی کے اس وسیع نیٹ ورک کو چلا رہے ہیں"۔