.

عراقی فورسز داعش کے گڑھ فلوجہ میں داخل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں سرکاری فورسز پیر کے روز فلوجہ شہر میں داخل ہوگئی ہیں۔ عسکری قیادت کے مطابق یہ شہر کا کنٹرول واپس لینے کے آپریشن میں نئے مرحلے کا آغاز ہے۔ فلوجہ شہر عراق میں داعش تنظیم کا گڑھ شمار کیا جاتا ہے۔

ادارہ انسداد دہشت گردی کے ترجمان صباح النعمان نے ایک غیرملکی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ "فلوجہ میں داخل ہونے کی کارروائی کا آغاز آج صبح سویرے مقامی وقت کے مطابق چار بجے ہوا۔ ہوا۔ ادارہ انسداد دہشت گردی کی فورسز، الانبار صوبے کی پولیس اور عراقی فوج تین نقاط سے شہر میں داخل ہوئیں"۔

فلوجہ شہر کو واپس لینے کے لیے آپریشن کا آغاز امریکا کے زیرقیادت بین الاقوامی اتحاد کی معاونت سے ایک ہفتہ قبل کیا گیا تھا جس میں ابتدائی طور پر شہر کے اطراف میں واقع دیہاتوں اور قصبوں کا کنٹرول واپس لینے پر توجہ مرکوز رہی۔ فلوجہ شہر دارالحکومت بغداد سے 50 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔

فوجی آپریشن کے آغاز سے قبل محض چند سو خاندان فلوجہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہوسکے تھے اور اس وقت شہر میں پھنسے ہوئے افراد کی تعداد 50 ہزار کے قریب ہے۔ شدت پسندوں کی جانب سے ان پھنسے ہوئے افراد کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کا قوی اندیشہ ہے۔

داعش کا ہیت پر حملہ

اتوار کے روز فلوجہ شہر کا مکمل طور پر محاصرہ کرلیا گیا تھا۔ سیکورٹی فورسز نے الانبار صوبے کے مغرب میں ہیت ضلع پر داعش کے ایک بھرپور حملے کو پسپا کردیا۔ فوجی ذرائع کے مطابق کارروائی میں تنظیم کے درجنوں ارکان مارے گئے۔

ایسے وقت میں جب کہ ملک کے مغربی حصے میں لڑائی کی شدت میں اضافہ ہورہا ہے، بیشمرگہ کرد فورسز نے ملک کے شمال میں ایک نئی کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔ نینوی صوبے کے علاقے الخازر میں جو موصل شہر سے 20 کلومیٹر دور ہے، بیشمرگہ نے 8 دیہاتوں کا کنٹرول واپس لے لیا اور ان فورسز کی پیش قدمی جاری ہے۔

اس کارروائی کا مقصد موصل کے اندر اور اس کے باہر داعش تنظیم پر دباؤ کو بڑھا کر شہر کی حدود سے قریب ہونا ہے۔

اس آپریشن میں بیشمرگہ فورسز کے تقریبا 5500 جنگجو شریک ہیں جن کو امریکا کے زیرقیادت بین الاقوامی اتحاد کے طیاروں کی سپورٹ حاصل ہے۔