.

کویت : "مسجد الصوابر" دھماکے کے مرکزی ملزم کو سزائے موت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت میں کورٹ آف کیسیشن نے پیر کی صبح جاری بیان میں "مسجد الصوابر" میں دھماکے کے مرکزی ملزم عبدالرحمن صباح عیدان کی سزائے موت کے فیصلے کی توثیق کردی ہے۔

مذکورہ کورٹ نے عدالت مرافعہ کے اس حکم کی بھی توثیق کی ہے جس میں مقدمے کے نویں ملزم فہد فرج نصار (کویت میں داعش کا نگراں) کے موت کی سزا ختم کر کے ملزم کو 15 برس قید اور اس کے بعد ملک سے بے دخلی کی سزا فیصلہ سنایا گیا تھا۔

کورٹ نے مقدمے کے دسویں ملزم "عادل عقل الظفيری" کی سزا کے فیصلے میں ترمیم کرتے ہوئے دس برس کی قید کو پانچ برس میں تبدیل کردیا۔

اس کے علاوہ مقدمے کی چودہویں ملزمہ "ساره فرج نصار" کی سات برس کی قید کو کم کر کے پانچ برس کر دیا

کورٹ نے مقدمے کی پندرہویں ملزمہ "مريم فهد فرج نصار" کی سزا کو منسوخ کرتے ہوئے اس کے بری ہونے کا فیصلہ جاری کیا۔

کورٹ نے مقدمے میں چودہ دیگر ملزمان کے بھی بری ہونے کی توثیق کی۔

"داعش" تنظیم نے کویت میں 28 جون 2015 کو شیعوں کی ایک مسجد کو دھماکے سے تباہ کرنے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ کارروائی میں 28 افراد ہلاک اور 200 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

یہ دھماکا کویت کے علاقے الصوابر کی مسجد امام صادق مسجد میں ہوا تھا۔ ایک کویتی سیکورٹی اہل کار کے مطابق جمعے کی نماز کے دوران ایک خود کش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔