عرب امن منصوبہ کے مطابق مذاکرات کے لئے تیار ہوں: یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

انتہا پسند اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے عرب امن منصوبہ کی روشی میں عرب ممالک سے مذاکرات پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔ یاد رہے عرب امن منصوبہ کی بنیاد سعودی عرب کے مرحوم شاہ عبداللہ نے 2002ء میں رکھی تھی۔

اسرائیلی رہنما کے بقول متذکرہ امن منصوبہ میں ایسے مثبت نقاط موجود ہیں کہ فلسطینیوں کے ساتھ مذاکرات کو درست سمت میں رکھنے میں مددگار ہو سکتے ہیں۔

اس امر کا اظہار نیتن یاہو نے دائیں بازو کے پرچارک اور سخت گیر موقف کے لئے مشہور نئے وزیر دفاع اویدگور لائیبرمین کے ہمراہ مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ یہ نیوز کانفرنس اسرائیلی نیسٹ کی جانب سے اویدگور لائیبرمین کی تقرری کے توثیق کی منظوری کے بعد منعقد ہوئی۔ نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ "میں واضح کر دوں کہ ہم فلسطینیوں سمیت اپنے تمام ہمسایوں کے ساتھ امن سے رہنا چاہتے ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق "عرب امن منصوبہ میں ایسے مثبت نقاط موجود ہیں کہ جو فلسطینیوں کے ساتھ مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔"

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس منصوبے کی بنیاد پر ہم عرب ملکوں کے ساتھ اس شکل میں مذاکرات شروع کرنے پر تیار ہیں کہ وہ 2002ء کے بعد خطے میں ہونے والی ڈرامائی تبدیلیوں کا عکاس ہو۔ اس امن منصوبے میں طے شدہ نقطے یعنی اسرائیل اور فلسطینی ریاست کی بقائے باہمی پر عملدرآمد ضروری ہے۔

اس ضمن میں نیتن یاہو نے حال ہی میں مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے خطاب کو سراہا جس میں انہوں نے اسرائیل، عرب اور فلسطینیوں کے لئے امن کے خواب کو تعبیر دینے کی ضرورت پر زور دیا تھا تاکہ خطے میں استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں