غزہ:دو قاتلوں کو پھانسی ،ایک فائرنگ اسکواڈ سے ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کی پٹی کی حکمراں حماس کے حکام نے تین فلسطینیوں کو قتل کے جُرم میں قصور وار قرار دے کر موت سے ہم کنار کردیا ہے۔

غزہ میں وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مقتولین کے خاندانوں نے ان قاتلوں کو معاف نہیں کیا تھا جس کے بعد سنٹرل جیل میں ان کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا ہے۔ان میں سے دو افراد کو پھانسی دی گئی ہے اور ایک کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے ہلاک کیا گیا ہے۔

حماس کے تحت ایک عدالت نے ان افراد کو سزائے موت سنائی تھی اور انھیں صدر محمود عباس کی منظوری کے بغیر ہلاک کیا گیا ہے۔سنہ 2014ء میں حماس اور فتح کے درمیان قومی اتحاد کی حکومت کے قیام کے لیے معاہدے کے بعد پہلی مرتبہ غزہ میں سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا ہے۔

اس اقدام پر فتح نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔فتح کے ترجمان اسامہ قواسمی نے کہا ہے کہ محمود عباس کی منظوری کے بغیر سزائے موت پر عمل درآمد ایک جرم اور قانون کی واضح خلاف ورزی ہے۔اس سے اختلافات کی خلیج ہی گہری ہوگی۔یہ حماس کی جانب سے ایک واضح پیغام ہے کہ وہ قومی اتحاد نہیں چاہتی ہے اور اس کو فلسطینی قانون کی بھی کوئی پروا نہیں ہے۔

واضح رہے کہ فلسطینی علاقوں میں قومی حکومت کے قیام کے لیے سنہ 2014ء میں طے پائے معاہدے پر کبھی عمل درآمد نہیں کیا گیا۔غزہ کی پٹی میں حماس نے اپنی عمل داری برقرار رکھی ہوئی ہے اور وہاں قومی حکومت کو کام کرنے کا موقع نہیں دیا۔

انسانی حقوق کے لیے سرگرم عالمی اور مقامی تنظیمیں حماس پر یہ زور دے چکی ہیں کہ وہ سزائے موت پر عمل درآمد نہ کرے۔ہیومن رائٹس واچ سے تعلق رکھنے والی سری باشی کا کہنا ہے کہ ''کسی کو بھی موت نہیں دی جانی چاہیے اور ایسے قانونی نظام میں تو یقیناً نہیں جس میں جبرو تشدد عام ہیں''۔

انھوں نے مزید کہا کہ ''حماس غزہ کی پٹی میں جرائم کی لہر کے خلاف سد جارحیت کے طور پر سزائے موت کو استعمال کررہی ہے جبکہ وہ ان جرائم کا موجب بننے والے اسباب ومحرکات کو دور کرنے پر توجہ نہیں دے رہی ہے''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں