.

اردن :وزیراعظم ہانی الملقی کی کابینہ کی حلف برداری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کی نئی نگران کابینہ نے حلف اٹھا لیا ہے۔شاہِ اردن عبداللہ دوم نے وزیراعظم ہانی الملقی اور ان کی کابینہ سے حلف لیا ہے۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ نئی حکومت خطے میں امریکا کی پالیسیوں کی حمایت جاری رکھے گی اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے زیرنگرانی اصلاحات پر عمل درآمد بھی جاری رکھے گی۔

ان ذرائع کا کہنا ہے کہ شاہ عبداللہ نے ہانی الملقی کو ملکی معیشت کی بحالی اور خاص طور پر سعودی عرب سے سرمایہ کاری کے حصول کے لیے وزیراعظم مقرر کیا ہے۔سعودی عرب نے قرضوں میں ڈوبے اردن میں سرمایہ کاری میں دلچپسی ظاہر کی ہے۔خلیجی ممالک کی جانب سے امداد میں کمی اور پڑوسی ملک شام میں جنگ کے بعد لاکھوں کی تعداد میں مہاجرین کے بوجھ سے اردن کی معیشت زبوں حالی کا شکار ہوئی ہے۔

چونسٹھ سالہ ہانی الملقی مختلف سینیر سفارتی اور وزارتی عہدوں پر فائز رہے ہیں۔وہ عقبہ کی بندرگاہ پر واقع اردن کے اقتصادی زون کے سابق چیف کمشنر رہ چکے ہیں۔وہ خارجہ امور ،صنعت اور تجارت کے وزیر رہ چکے ہیں اور وہ ایک ماہر معیشت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ شاہ عبداللہ دوم نے گذشتہ اتوار کو ایک فرمان کے ذریعے چار سالہ مدت پوری ہونے پر پارلیمان تحلیل کردی تھی اور ہانی الملقی کو نگران وزیراعظم مقرر کیا تھا۔اس سے قبل وزیراعظم عبداللہ النسور اور ان کی کابینہ مستعفی ہوگئی تھی۔

اردن کے آئین کے تحت نئے انتخابات کے انعقاد سے چار ماہ قبل حکومتِ وقت کو مستعفی ہوجانا چاہیے۔نئی کابینہ ستمبر میں انتخابات منعقد کرائے گی۔اردن کے نئے انتخابی قانون کے تحت ''ایک فرد ایک ووٹ'' کے تحت انتخابات ہوں گے۔اس کے تحت ملک کو 23 انتخابی اضلاع میں تقسیم کیا گیا ہے۔بارہ گورنریوں کے لیے ایک ایک حلقہ ہے۔البتہ دارالحکومت عمان کے پانچ ،اربد کے چار اور زرقا کے دو حلقے ہوں گے۔