.

ایران حج کو سیاسی نہ بنائے : عرب پارلیمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب لیگ کے رکن ممالک کی مشترکہ پارلیمان نے کہا ہے کہ ''حج کو سیاسی نہیں بنایا جانا چاہیے اور نہ اس کو سعودی عرب کو ہدف بنانے کے لیے استعمال کیا جائے''۔عرب پارلیمان کا ایران کی جانب اشارہ تھا۔

عرب پارلیمان نے قاہرہ میں اپنے اجلاس کے اختتام پر ایک بیان میں کہا ہے کہ الحرمین الشریفین اور مقدس مقامات کا تقدس برقرار رکھا جانا چاہیے۔حج کا مقصد صرف عبادت گزاری اور مناسک کی ادائی ہونا چاہیے۔

سعودی عرب کا کہنا ہے کہ ایرانیوں نے حج کے دوران مظاہرے منظم کرنے کا حق دینے کا مطالبہ کیا تھا۔سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے اپنے برطانوی ہم منصب فلپ ہیمنڈ کے ساتھ جدہ میں ایک مشترکہ نیوز کانفرنس میں بتایا ہے کہ ایرانیوں نے حج کے دوران ایسی سہولتیں دینے کا مطالبہ کیا تھا جس سے افراتفری پھیل سکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایران کا شروع ہی سے ایسا ارادہ تھا اور وہ اپنے شہریوں کو حج کی ادائی سے روکنے کے لیے جواز ڈھونڈ رہا تھا۔

عرب پارلیمان نے گذشتہ ماہ ایران اور اس کی گماشتہ لبنانی ملیشیا حزب اللہ کی عرب ممالک کے داخلی امور میں مداخلت کی مذمت کی تھی۔اس نے ایران کو عرب ممالک کے امور میں ننگی مداخلت ،فرقہ واریت کے بیج بونے اور عرب اتحاد کے لیے خطرہ بننے پر انتباہ کیا تھا۔

عرب پارلیمان کے اسپیکر احمد الجروان نے ایک بیان میں کہا تھا کہ حزب اللہ ایک دہشت گرد جماعت ہے۔عرب لیگ ،بہت سے بین الاقوامی کنونشنز اور اسلامی تعاون تنظیم حزب اللہ کی خطے کے بہت سے ممالک میں منفی مداخلت پر اس کے خلاف یکساں مؤقف رکھتے ہیں۔