.

شام: منبج کی واپسی کا آپریشن ۔۔۔ امریکی فورسز اور "كُرد" بھی شریک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ذمہ داران نے بتایا ہے کہ شام کے صوبے حلب میں "منبج" شہر کو داعش کے قبضے سے واپس لینے کے لیے امریکی حمایت یافتہ جنگجوؤں نے حملے کی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

خبروں میں اس امر کی تصدیق کی گئی ہے حملے میں ہزاروں شامی جنگجو شرکت کر رہے ہیں، جن کے ساتھ زمینی طور پر امریکی مشیران بھی موجود ہیں تاہم وہ فرنٹ لائن کے دور ہیں۔

ذمہ داران کے مطابق منبج کو واپس لینے کی کارروائی میں چند ہفتے لگ سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس کارروائی میں کُرد جنگجوؤں کی تھوڑی سی تعداد شریک ہے جو معرکے کے اختتام پر منبج سے کوچ کر جائیں گے۔

کارروائی کا آغاز منگل کے روز کیا گیا جس کا مقصد داعش تنظیم کو ترکی کی سرحد کے ساتھ شامی اراضی تک پہنچنے سے روکنا ہے۔ اس علاقے کو شدت پسندوں کی جانب سے جنگجوؤں کی یورپ آمد و رفت کے لیے لاجسٹک اڈے کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

ایک امریکی فوجی ذمہ دار نے بتایا کہ "یہ انتہائی اہم ہے اس لیے کہ یہ یورپ پہنچنے کے لیے ان کا آخری مرکز ہے"۔

ذمہ داران کے مطابق جنہوں نے اپنے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، امریکی اسپیشل فورسز کے اہل کار آپریشن کو مکمل کرنے کے لیے شامی جنگجوؤں کی ضرورت کے بقدر ان کے قریب ہوں گے تاہم وہ لڑائی میں براہ راست شریک نہیں ہوں گے"۔

آپریشن میں امریکا کے زیرقیادت اتحاد کی جانب سے فضائی حملوں اور اسی طرح ترکی میں سرحدی علاقے پر زمینی گولہ باری کا سہارا بھی لیا جائے گا۔