.

ایران : ولایت فقیہ کے نظام کے اصلاح کی میٹھی گولی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں حالیہ پارلیمانی انتخابات اور ان میں اصلاح پسندوں کی متعلقہ کامیابی کی روشنی میں بہت سے حلقے ایرانی خارجہ پالیسی میں تبدیلی اور مختلف نوعیت کی داخلہ تبدیلیاں رونما ہونے کی امید لگا بیٹھے۔ اس امر کے نتیجے میں یورپی اور عالمی کمپنیوں کے منہ میں بھی پانی بھر آیا جو ایران کے نیوکلیئر پروگرام کی وجہ سے اس پر عائد پابندیوں کے جزوی خاتمے کے بعد سے سرمایہ کاری کے مواقع کا انتظار کررہی ہیں۔

درحقیقت مغربی ممالک نے ایران میں مطلوب تبدیلیوں کی ضمانت کو اصلاح پسندوں اور ان کے اعتدال پسند حلیفوں کی کامیابی سے مربوط گمان کر رکھا تھا۔ تاہم یہ ممالک اس بات کو بھول گئے کہ اصلاحی تحریک ایک ناکامی سے نکل کر دوسری ناکامی میں داخل ہونے جارہی ہے۔ اس نے اس حوالے سے اپنی مسلسل ناکامیوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور ولایت فقیہ کی جمہوریہ کے نظام کی اصلاح کے امکان پر یقین برقرار رکھا اگرچہ اس آرزو کے پورے ہونے کا عدم امکان ثابت ہوچکا ہے۔

ایرانی امور کے ماہر مجید محمدی نے ایک امریکی ویب سائٹ پر اپنے مضمون میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے انتخاب میں اصلاح پسند امیدوار محمد عارف کی ناکامی اور قدامت پسند علی لاریجانی کے دوبارہ منصب پر فائز ہونے کا تجزیہ کیا ہے۔ محمدی کے خیال میں اصلاح پسندوں کی تحریک تجربات کے ذریعے بڑے وثوق سے یہ بتانا چاہتی ہے کہ اسلامی جمہوریہ کا نظام قابل اصلاح ہے جب کہ حقائق متعدد بار اس کے برخلاف ثابت ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "مرشد اعلی کی جانب سے مقرر کردہ تمام اعلی اہل کار اور مذہبی، سیکورٹی اور فوجی ادارے اس بات پر مصر ہیں کہ اصلاحات کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس لیے کہ ان کے نزدیک ایرانی نظام ایک الہٰی جمہوری نظام ہے اور ان لوگوں کو اصلاحات میں غیرملکی سازش نظر آتی ہے"۔

یاد رہے کہ نظام میں مرشد اعلی یعنی فقیہ ولی کو مطلق آئینی اختیارات حاصل ہیں۔ ان میں مسلح افواج (فوج اور پاسداران انقلاب) کی قیادت، عدلیہ کے سربراہ کا تقرر، شوری نگہبان میں چھ فقہاء کا تقرر، تشخیص مصلحت نظام کونسل کے ارکان کا تقرر، تمام صوبوں میں جمعے کی نماز کے لیے آئمہ کا تقرر، قومی سلامتی کونسل کے ارکان کا تقرر شامل ہیں۔ ان کے علاوہ صدر کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ مرشد اعلی کی منظوری حاصل کیے بغیر وزارت خارجہ، وزارت داخلہ، وزارت دفاع ، وزارت تیل اور سیکورٹی کی وزارت کے ذمہ دار وزراء کا چناؤ کرسکے۔

محمد مجیدی نے باور کرایا ہے کہ نئے اصلاح پسندوں نے اپنے بزرگوں کے مطالبات سے دست بردار ہو کر ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پر خاموشی اختیار کرلی ہے۔ انہوں نے 2013 کے صدارتی اور 2016 کے پارلیمانی انتخابات میں ایران میں حقیقی اصلاحات سے متعلق کوئی نقش راہ پیش نہیں کیا بلکہ "اصلاحی تحریک" کے نام کے پیچھے چھپنے پر اکتفا کیا ہے جو گزشتہ صدی میں نوّے کی دہائی میں ظاہر ہوا تھا۔

مجید کے خیال میں اصلاحی تحریک حکومت کے ہاتھ میں آلہ کار بن چکی ہے اور وہ بین الاقوامی رائے عامہ کے سامنے اچھے تھانے دار کا کردار ادا کررہی ہے بالمقابل ان سخت گیروں کے جو برے تھانے دار کا روپ پیش کرتے ہیں۔ یہ وہ امر ہے جو عوام کے کسی بھی مطالبے کو پورا نہیں ہونے دے رہا۔ مضمون نگار نے یہ سوال کیا ہے کہ دنیا میں کوئی ایسا ملک ہے جہاں 2 کروڑ 10 لاکھ افراد اصلاح پسند امیدوار کے حق میں ووٹ دیں اور پھر اس کی جانب سے ہمارے سامنے یہ بات آئے کہ وہ محض تعلقات عامہ کا صدر ہے؟ کیا دنیا میں کوئی ایسا ملک ہے جہاں تیس لاکھ لوگ احتجاج کے لیے دارالحکومت کی سڑکوں پر نکل آئے اور کسی قانون، فیصلے اور پالیسی میں تبدیلی نہیں آئی؟

ایرانی خارجہ پالیسی

خطے میں ایرانی نظام کے مفادات کے حوالے سے حسن روحانی اور اصلاحی تحریک کسی طور سخت گیروں سے مختلف نہیں بلکہ دونوں کے درمیان اختلاف تو ان مفادات کی ضمانت دینے والے طریقہ کاروں کے حوالے سے ہے۔ جہاں تک خارجہ پالیسی کا تعلق ہے تو اس کے خدوخال مرشد اعلی کی طرف سے تیار کیے گئے نیوکلیئر مذاکرات سے لے کر شام، عراق، لبنان، یمن اور بقیہ علاقوں میں مداخلت تک۔ صدر تو فقیہ ولی علی خامنہ ای کی جانب سے سبز اشارہ ملنے کے بعد صرف ان پر عمل درامد کا مکلف ہوتا ہے۔

اصلاح پسندوں اور اعتدال پسندوں کا دعوی تھا کہ وہ پارلیمنٹ پر کنٹرول رکھتے ہیں تاہم ارکان پارلیمنٹ نے مرشدی اعلی کے قریب سمجھے جانے والے قدامت پسند علی لاریجانی کو اسپیکر منتخب کیا۔

ایرانی امور کے ماہر وجدان عفراوی نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو میں ایران کی داخلہ اور خارجہ پالیسی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "ایرانی داخلہ اور خارجہ پالیسی کو علاحدہ نہیں کیا جاسکتا اس لیے کہ نظام تمام امور کے ساتھ ایک مطلق نظریے کے ساتھ معاملہ کرتا ہے۔ جس طرح اصلاحی تحریک داخلی سطح پر کوئی تبدیلی نہیں لا سکی اسی طرح اس کے لیے ایرانی خارجہ پالیسیوں کو بدلنا بھی ممکن نہیں جن کی حکمت عملی اسی سخت گیر بنیاد پرست نظریے سے اخذ کی جاتی ہے۔ یہ حکمت عملی خطے میں ولایت فقیہ کی جمہوریہ کا رسوخ وسیع کرنا چاہتی ہے۔ اس واسطے یہ حد درجہ دشوار ہے کہ ایران بشار الاسد اور حزب اللہ کی سپورٹ سے پیچھے ہٹ جائے اور عراق اور دیگر علاقوں کے معاملے میں مداخلت روک دے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی نظام ایک نظریاتی نظام ہے جو توسیع میں اپنی بقاء دیکھتا ہے تاکہ اپنی سلطنت کو دو بنیادوں پر استوار کرے۔ پہلی بنیاد شیعہ مسلک اور دوسری بنیاد فارسی قومیت۔ عرب، افغان اور پاکستانی شیعہ صرف اس منصوبے کے لیے استعمال ہونے والے سپاہی ہیں۔ اگرچہ اصلاحی تحریک اس رسائی سے تکتیکی اختلافات رکھتی ہے تاہم وہ داخلی اور خارجی سطح پر نظام کے رجحانات پر اثر انداز ہونے میں ناکام ہوگئی۔