.

ایران کا تیسرے ملک کے ذریعے حج کے سفر پر انتباہ !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے ادارہ حج و زیارت کے ڈائریکٹر سعید اوحدی نے ایرانی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ کسی تیسرے ملک کے راستے حج پر جانے کی ہر گز کوشش نہ کریں۔ یہ انتباہ تہران کی جانب سے اپنے عازمین حج کو رواں سال دیار مقدسہ جانے سے منع کردینے کے بعد سامنے آیا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس مذکورہ اعلان سے ثابت ہوتا ہے کہ ایران کی جانب سے "حج کوسیاست میں ملوث کرنے" کا منصوبہ جاری ہے۔

ایرانی ایجنسی "تسنيم" کے مطابق اوحدی کا کہنا ہے کہ "میں ان ہم وطنوں کو جو دیگر ممالک سے حج کا سفر کرنا چاہتے ہیں یہ ہدایت کررہا ہوں کہ سعودیوں کی جانب سے ایران کے خلاف نفسیاتی جنگ اور ایرانی حجاج کے لیے قونصلی خدمات فراہم نہ کیے جانے کے پیش نظر ہم اپنے ملک کے شہریوں کو رواں سال حج پر نہ جانے کی ہدایت کررہے ہیں"۔

ادھر متعدد ذرائع نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ رواں سال ایرانی حاجیوں کو جانے سے روکنے کا سبب ایرانی حج و زیارت مشن کا اس حج پروٹوکول پر دستخط نہ کرنا ہے جس کو تمام اسلامی ممالک کی منظوری سے حتمی شکل دی گئی ہے۔

دوسری جانب "سحام نيوز" ویب سائٹ نے باخبر حکومتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ پروٹوکول پر دستخط نہ کرنے کی اہم ترین وجوہات ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای کی جانب سے حج مشن پر تھوپے گئے دو بنیادی مطالبے ہیں۔ خامنہ نے مشن کو دونوں مطالبوں سے عدم دست برداری کا پابند کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق خامنہ ای کی جانب سے پہلا مطالبہ مسجد نبوی میں "دعاء كميل" کا انعقاد ہے جس کا مقصد اس مقام کو سعودی عرب پر تنقید اور نکتہ چینی کے لیے ایک سیاسی منبر میں تبدیل کرنا ہے تاکہ مملکت کے ساتھ سیاسی حساب برابر کیا جاسکے۔ سعودی عرب نے اس مطالبے کو یکسر مسترد کردیا ہے۔

دوسرا مطالبہ "مشرکین سے براءت" کی رسم کا انعقاد ہے جیسا کہ ایرانیوں کی جانب سے ہر سال اس سلسلے میں ایک ریلی نکالی جاتی ہے جس کے نتیجے میں حج میں غیر قدرتی طور پر اژدہام کی صورت حال پیدا ہوتی ہے۔

یاد رہے کہ جانبین کے درمیان بات چیت میں سعودی عرب نے ایرانی شرائط کو مسترد کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ ان کا حج کے معروف مناسک سے کوئی تعلق نہیں اور اس نوعیت کے مجمعوں کی وجہ سے اسلامی ممالک کے بقیہ حجاج کی نقل و حرکت میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔

سعید اوحدی کا دعوی ہے کہ مفاہمتی یادداشت میں سعوی عرب کی جانب سے پیش کی گئیں عبارتوں میں "ایرانی فضائی کمپنی کا استعمال نہ کیا جانا، داخلے کے ویزوں کا کسی تیسرے ملک سے اجراء، ایرانی حجاج کے علاج کے لیے ڈسپنسریوں کا قائم نہ کیا جانا، قونصلی خدمات فراہم نہ کیا جانا اور ایرانی حجاج کی سیکورٹی کی ضمانت پیش نہ کیا جانا" شامل ہیں۔

ادھر سعودی عرب میں وزارت حج و عمرہ کی جانب سے جاری بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ جانبین سعودی وزارت خارجہ کے طریقہ کار کے مطابق ایران سے الیکٹرونک ویزوں کے اجراء، سعودی عرب اور ایران کی سرکاری بس سروس کے ذریعے ایرانی حجاج کی نقل و حرکت اور سوئس سفارت خانے کے ذریعے ایرانی وفد کی سفارتی نمائندگی پر آمادہ ہوگئے تھے۔