.

مصری طیارے کے بلیک باکسز کے سگنلز کا سراغ لگ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بحر متوسط میں مصر کے تباہ شدہ طیارے کی تلاش میں شریک فرانسیسی بحریہ کے جہاز کو ایسے سگنلز ملے ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ مصر للطیران کی پرواز ایم ایس 804 کے بلیک باکسز کے ہو سکتے ہیں۔

مصر کی تحقیقاتی کمیٹی نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ بحر متوسط میں بلیک باکسز کی تلاش کا کام تیز کردیا گیا ہے اور اس کام میں معاونت کے لیے ایک ہفتے کے اندر ایک اور بحری جہاز کی آمد متوقع ہے۔جان لیتھ برج نامی یہ بحری جہاز موریشیس سے تعلق رکھنے والی کمپنی ''گہرے پانیوں میں تلاش'' کا ملکیتی ہے۔

کمیٹی کے بیان کے مطابق ''فرانسیسی بحریہ کے جہاز لاپلیس پر نصب آلات نے سمندر کی تہ سے سگنلز کا سراغ لگایا ہے اور یہ ممکنہ طور پر ایک ڈیٹا باکس کے ہوسکتے ہیں''۔

مصری اور فرانس کی ٹیمیں بحر متوسطہ کے گہرے پانیوں میں تباہ شدہ مسافر طیارے کے ڈیٹا ریکارڈرز (بلیک باکسز) کی تلاش کررہی ہیں۔واضح رہے کہ حادثات کا شکار ہونے والے طیاروں کے بلیک باکسز تیس روز تک سنگنلز جاری کرتے رہتے ہیں اور سرچ ٹیمیں گہرے پانیوں میں انھیں تلاش کرسکتی ہیں۔مصری طیارے کے بلیک باکسز کے بارے میں یقین کیا جاتا ہے کہ وہ تین ہزار میٹر کی گہرائی میں سمندر کی تہ میں پڑے ہیں۔

مصر للطیران کا یہ مسافر طیارہ 19 مئی کو علی الصباح پیرس سے قاہرہ آتے ہوئے بحر متوسط میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔اس میں سوار تمام 56 مسافر اور عملے کے 10 ارکان ہلاک ہوگئے تھے۔تباہ شدہ مسافر طیارے کے بلیک باکسز کی تلاش میں ایک آبدوز بھی شریک ہے اور یہ سمندر میں تین ہزار میٹر گہرائی تک جا سکتی ہے۔طیارے کے دونوں بلیک باکس ریکارڈرز کے ملنے کی صورت ہی میں حادثے کی اصل وجوہ کا پتا چل سکے گا۔