.

حج کو راہ راست سے ہٹانے والی ہر پالیسی مجرمانہ ہے: مفتی اعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے مفتی اعظم اور سینئر علماء کمیٹی کے سربراہ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ نے ایران کی جانب سے حج سے متعلق قانونی تقاضوں اور لاگو ضوابط کی پابندی سے انکار کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔ سعودی روزنامے "الریاض" کے مطابق مفتی اعظم نے باور کرایا کہ اللہ رب العزت نے حرمین شریفین کی ولایت اس مبارک مملکت سعودی عرب کو سونپی ہے لہذا تمام مسلمانوں کے واسطے حج کو آسان بنانے کے لیے انتظامی طور پر جو فیصلے کیے جائیں ان کو سننا اور ان کو ماننا چاہیے۔ جو کوئی اپنا علاحدہ راستہ اپنائے گا وہ جہنم میں ٹھکانہ بنائے گا۔

انہوں نے کہا کہ قرآن کریم میں حج سے متعلق تمام آیات اس بات کو باور کراتی ہیں کہ حج ایسی عبادت ہے جو خالص اللہ عزوجل، اس کی توحید اور دین میں اخلاص کے واسطے ہے۔ یہ اللہ رب العزت کی اطاعت کا نمونہ ہے اور یہ ذاتی مفادات کی تکمیل کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع نہیں۔

آل الشیخ کے مطابق حج وحدت صف، وحدت کلمہ، اللہ کی اطاعت کے قیام اور ساری دنیا سے جمع ہونے والے مسلمانوں کے درمیان الفت و محبت کا ذریعہ ہے۔ اس کا مقصد مسلمانوں کے درمیان مفاہمت، مشاورت اور تعاون کی فضا عام کرنا ہے تاکہ مسلمان ایک مضبوط تعلق میں مربوط ہوجائیں یعنی ایمان اور اسلامی بھائی چارے کا تعلق۔ ایشیا سے ، یورپ سے اور افریقہ سے تمام لوگ اللہ کے ذکر اور اس کی نشانیوں کی تعظیم کے لیے آتے ہیں۔

سعودی مفتی اعظم نے باور کرایا کہ کوئی بھی پالیسی جس کا مقصد حج کے فریضے کو راہ راست سے ہٹانا ہو وہ مجرمانہ پالیسی ہے۔ اس کے ذریعے حجاج میں جہالت کا پھیلانا، مسلمانوں پر حملہ آور ہونا یا ان میں تفرقہ پھیلانا یہ تمام امور اسلام میں مردود ہیں۔ اسلام نے حج کو عبادت اور اطاعت بنایا ہے نہ کہ جاہلیت اور بدعت پھیلانے کا منبر۔ ماضی میں بھی مسجد حرام میں اسی طرح کے فرقوں کی جانب سے گھناؤنی کارروائیاں کی جاچکی ہیں۔ یہ عناصر اللہ کے گھر اور اس مقدس شہر کی حرمت کا کوئی خیال نہیں کرتے۔ ان ہی میں پہلوں نے آٹھ ذوالحجہ کو حجاج کو شہید کیا، حجر اسود کو چوری کیا اور اپنے ساتھ نکال کر لے گئے اور پھر بائیس برس بعد اللہ تعالی نے اس کو اپنے مقام پر واپس پہنچا دیا۔ ان کے اسلاف نے بھی شرانگیزی پھیلائی تھی اور اب یہ لوگ حج کو سیاست میں ملوث کرنے پر تلے ہوئے ہیں جو کہ قطعاً ناجائز ہے۔

شیخ عبدالعزیز نے باور کرایا کہ بیت اللہ کی حفاظت کی ذمہ داری سعودی عرب کو تفویض کی گئی ہے۔ اللہ رب العزت نے مملکت کو یہ نگرانی اور حرمین شریفین کی خدمت سونپی ہے۔ ریاست پر لازم ہے کہ وہ حجاج کرام کے تحفظ اور مناسک کی سہولت کے ساتھ ادائیگی کو یقینی بنانے کے لیے جو اقدامات مناسب سمجھتی ہو وہ کرے۔ تمام مسلمانوں کو اس نظام کو ماننا واجب ہے اور جو کوئی اس سے ہٹ کر قصد کرے گا تو اس کی بات مردود ہے۔ حج کے دروازے اسلامی دنیا کے تمام عازمین کے لیے کھلے ہیں تاہم جو امت میں شر پھیلانے کے درپے ہے تو اس کے لیے یہاں کوئی گنجائش نہیں۔