.

سعودی عرب: العوامیہ تخریبی گروپ کا لبنانی حزب اللہ سے تعلق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی دارالحکومت ریاض میں حال ہی میں عدالت کی جانب سے العوامیہ گروپ کے ارکان کے خلاف جاری ابتدائی احکامات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مذکورہ گروپ کا لبنانی تنظیم حزب اللہ کے ساتھ تعلق ہے۔ العوامیہ گروپ متعدد سیکورٹی اہل کاروں اور شہریوں کی ہلاکت، پرتشدد کارروائیوں اور ہنگامہ آرائی اور القطیف کے گورنر پر مسلح حملے میں ملوث ہے۔ گروپ کے ارکان کو حزب اللہ کی جانب سے ہدایات اور تربیت فراہم کی گئیں۔

گروپ کا ایک رکن فیس بک اور ٹوئیٹر پر مختلف آئی ڈیز کے ذریعے لوگوں کو بھرتی کرنے، گمراہ کن پروپیگنڈہ پھیلانے کا کام سرانجام دیتا تھا۔

عدالت نے العوامیہ قصبے میں 24 ارکان پر مشتمل مسلح گروپ پر عائد 400 سے زیادہ الزامات کا جائزہ لیا۔ گروپ کے ایک ملزم کو رہا کرنے، 9 ملزمان کو 3 سے 15 سال کے درمیان قید اور 14 ملزمان کو سزائے موت کا فیصلہ سنایا۔

گروپ کے سزائے موت پانے والے ارکان میں ایک ملزم نے لبنان کا سفر کر کے حزب اللہ کے ارکان سے ملاقات کی تھی۔ اس کے علاوہ وہ پیٹرول بم تیار کرنے والے ایک گروپ کا نگراں بھی تھا۔

سزائے موت پانے والے ایک اور ملزم کے خلاف اسلحے کی تجارت، سیکورٹی فورسز پر فائرنگ، غیرملکی ذرائع ابلاغ کے ساتھ رابطوں، گمراہ کن پروپیگنڈے سوشل میڈیا پر ہنگامہ آرائی کی تصاویر اور وڈیوز پوسٹ کرنے اور لوگوں کو مظاہروں اور ریلیوں کے لیے باہر نکلنے کی دعوت دینے کے الزامات ثابت ہوئے تھے۔

حزب اللہ اور الخبر دھماکا

العوامیہ گروپ پر عائد الزامات اور اس کے ارکان کے لبنانی حزب اللہ سے روابط نے ذہنوں میں 25 جون 1996 کو سعودی عرب کے شہر الخبر میں ہونے والے دھماکے کی یادیں تازہ کر دی ہیں۔ کار بم دھماکے میں وزارت دفاع کے ایک ذیلی دفتر کو نشانہ بنایا گیا تھا جس کے نتیجے میں 19 امریکی ہلاک ہوئے۔ اس کے علاوہ 384 افراد زخمی ہوئے جن میں 147 سعودی، 118 بنگلہ دیشی، 109 امریکی، 4 مصری جب کہ اردن ، انڈونیشیا اور فلپائن کے دو دو شہری تھے۔ حملہ آوروں نے گولہ بارود لبنان سے مملکت اسمگل کیا گیا تھا۔

کویت میں حزب اللہ گروپ

جنوری 2016 میں کویت میں فوجداری عدالت نے "حزب اللہ گروپ" کے نام سے معروف کیس میں دو ملزمان کے خلاف موت کی سزا اور دیگر کے خلاف مختلف مدت کی قید کی سزا کے احکامات جاری کیے تھے۔ ان افراد پر کویت میں دشمنانہ کارروائیاں کرنے کے لیے لبنانی حزب اللہ اور ایران کے ساتھ گٹھ جوڑ کے الزام میں فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ عدالت نے ایک کویتی اور ایک مفرور ایرانی کے خلاف سزائے موت اور ایک ملزم کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ اس کے علاوہ کویتی شہریت کے حامل 15 ملزمان کو 15 برس قید کی سزا دی گئی تھی۔

اٹارنی جرنل کے دفتر کی جانب سے اگست 2015 میں پکڑے جانے والے 25 کویتیوں اور ایک ایرانی پر مشتمل گروپ کے ارکان پر جن الزامات کے تحت فرد جرم عائد کی گئ تھی ان میں کویت کی وحدت اور اس کی اراضی کی سلامتی کو نقصان پہنچانا اور کویت کے خلاف سرگرمیوں کے لیے ایران اور لبنانی حزب اللہ سے گٹھ جوڑ شامل ہیں۔

اس سے قبل وزارت داخلہ کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ گروپ کے قبضے سے بھاری تعداد میں ہتھیار اور بڑی مقدار میں گولہ بارود برآمد کیا گیا۔ وزارت کے بیان کے مطابق سیکورٹی فورسز نے 19 ٹن دھماکا خیز مواد کے علاوہ 144 کیلوگرام " ٹی این ٹی" مواد، آر پی جی، دستی بم، بموں کی تاریں اور ہتھیار قبضے میں لیے۔

حزب الله ایک دہشت گرد تنظیم

2 مارچ 2016 کو خلیج تعاون کونسل کے ممالک نے لبنانی تنظیم حزب اللہ کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا۔ اس موقع پر تنظیم کی کارروائیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا کہ یہ عرب قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ کونسل کے سکریٹریٹ کی جانب سے جاری بیان میں اعلان کیا گیا کہ رکن ممالک نے فیصلہ کیا ہے کہ "حزب اللہ کی ملیشیاؤں کو تمام قیادت، گروپ اور ذیلی تنظیموں سمیت دہشت گرد تنظیم شمار کیا جائے گا"۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ کونسل کے ممالک اپنے فیصلے پر عمل درامد کے لیے لازمی اقدامات کریں گے اور اس سلسلے میں کونسل کے رکن ممالک اور مماثل ممالک میں لاگو انسداد دہشت گردی کے خصوصی قوانین کو بنیاد بنایا جائے گا۔

بیان کے مطابق یہ فیصلہ مذکورہ ملیشیاؤں کی جانب سے دشمنانہ کارروائیاں، دہشت گردی پھیلانے کے لیے کونسل کے ممالک کے نوجوانوں کی بھرتیاں اور ہتھیاروں اور گولہ بارود کی اسمگلنگ جاری رکھنے کے علاوہ فساد بھڑکانے اور انارکی اور تشدد پر اکسانے کی کارروائیوں کے سبب کیا گیا۔ یہ تمام کارروائیاں خلیجی ممالک کی خودمختاری، امن اور استحکام کی کھلی خلاف ورزی ہے۔