.

دادا نے پھانسیاں نہ دی ہوتیں تو نظام باقی نہ رہتا : علی خمینی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گزشتہ مارچ میں اقوام متحدہ نے ایران میں انسانی حقوق سے متعلق ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں پھانسی کی سزا کی "پریشان کُن" بڑھتی ہوئی شرح پر روشنی ڈالی گئی تھی جن میں کم عمر افراد کو سزائے موت بھی شامل ہے۔ اسی طرح جنوری میں بھی ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں ایران میں کم عمر افراد کی سزائے موت کوتنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا جو کہ خطے میں بلند ترین سطح پر ہے۔ تاہم ان تمام امور کے باوجود ایران میں "ملائیت کے نظام کے بانی خمینی کا پوتا اس جانب متوجہ نظر نہیں آتا۔

ایران کے مرشد اوّل خمینی کے پوتے علی خمینی نے اپنے دادا کے دور اقتدار میں وسیع پیمانے پر دی جانے والی پھانسیوں کا مکمل دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے انتظامی امور میں خمینی کی سخت گیری، انقلاب کے بعد ایرانی نظام کے جاری رہنے کی بنیادی وجہ ہے۔

قم کے علمی مرکز میں اپنے خطاب کے دوران علی خمینی نے "بہار عرب" اور ایرانی انقلاب کا موازنہ کیا۔ انہوں نے 1979 میں خمینی کی جانب سے انقلاب کے اعلان پر ایران کے چار علاقوں احواز، کردستان، بلوچستان اور آذربائیجان میں نظر آنے والی شورشوں کا حوالہ دیا۔

عربی روزنامے "الشرق الاوسط" کے مطابق علی خمینی نے بتایا کہ ان کے دادا مذکورہ بحرانی کیفیت سے نمٹنے میں کامیاب رہے اور ملک میں پھر سے امن و سکون واپس آگیا، اگر اس موقع پر "وہ لچک کا مظاہرہ کرتے تو پھر تیس برس بعد یہ ملک پرسکون نہ ہوتا"۔

خمینی کے پوتے کا یہ بیان منگل کے روز اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق کمیشن کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کمیشن نے ایرانی حکام کی جانب سے گزشتہ جمعے کو مغربی صوبے آزربائیجان میں سونے کی کان میں کام کرنے والے 17 کارکنوں کو کوڑے مارے جانے کی مذمت کی۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ نے جامعہ قزوین کے 35 طلبہ کو بھی کوڑے لگائے جانے کی مذمت کی۔ ان طلبہ نے جامعہ کی انتظامیہ کے علم میں لائے بغیر طلبہ کی جانب سے منعقدہ گریجویشن پارٹی میں شرکت کر لی تھی۔

اقوام متحدہ نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انسانی حقوق سے متعلق ان میثاقوں کی پاسداری کرے جن پر وہ ماضی میں دستخط کرچکا ہے۔