.

حلب: شامی فوج کے فضائی حملوں میں 31 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی فوج نے شمالی شہر حلب اور اس کے نواح میں فضائی بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں اکتیس شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔ان میں سے دس افراد ایک بس پر حملے میں مارے گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق شامی فوج نے حلب کے باغیوں کے زیر قبضہ مشرقی علاقوں پر جمعہ کی صبح کے بعد سے شدید بمباری کی ہے۔شامی طیاروں نے بیسیوں بیرل بم اور خام دھماکا خیز مواد گرایا ہے اور ان میں حلب کے مشرقی حصے میں واقع متعدد مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے کہا ہے کہ شامی طیاروں نے حلب میں کاسٹیلو روڈ پر شدید بمباری کی ہے۔یہ حلب سے باہر جانے والا باغیوں کا ایک اہم سپلائی روٹ ہے۔اسی شاہراہ پر بدھ کو بھی ایک بس پر بماری کی گئی تھی اور اس حملے میں سات شہری مارے گئے تھے۔

شامی رصدگاہ کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے کہا ہے کہ کاسٹیلو روڈ باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں مقیم شہریوں کے لیے حلب سے باہر نکلنے کا واحد راستہ تھا لیکن اب یہ منقطع ہوکر رہ گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس شاہراہ پر ہر طرح کی نقل وحرکت کو نشانہ بنایا جارہا ہے،خواہ یہ بسیں ہوں یا عام راہ گیر۔

انھوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ جمعرات کی شب حکومت کے زیر قبضہ علاقوں پر باغیوں نے راکٹ باری کی تھی جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں۔تاہم انھوں نے مہلوکین اور زخمیوں کی حتمی تعداد نہیں بتائی ہے۔

روس اور امریکا کی ثالثی کے نتیجے میں فروری میں شامی حکومت اور اعتدال پسند باغیوں کے درمیان جنگ بندی طے پائی تھی اور ملک کے مختلف علاقوں پر اس پر عمل درآمد کیا جارہا ہے لیکن حلب کے نواح میں اس کی مسلسل خلاف ورزی کی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ ملک کے اس بڑے شہر پر کنٹرول کے لیے شامی باغیوں اور اسدی فوج کے درمیان سنہ 2012ء سے لڑائی جاری ہے۔اپریل کے بعد شامی فوج کی بمباری اور باغیوں کی جوابی گولہ باری میں کم سے کم تین سو افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

حلب مارچ 2011ء میں صدر بشارالاسد کے خلاف عوامی مزاحمتی تحریک کے آغاز سے قبل شام کا بڑا تجارتی اور کاروباری مرکز تھا لیکن اب وہ اسدی فوج کی وحشیانہ بمباری اور اس کے جواب میں باغی گروپوں کی گولہ باری کے بعد ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔حلب آبادی کے اعتبار سے ملک کا سب سے بڑا شہر تھا مگر اب مقامی لوگوں کی بڑی تعداد اپنا گھربار چھوڑ کر پڑوسی ملک ترکی یا دوسرے ممالک کی جانب جاچکی ہے یا پھر اندرون ملک ہی قدرے محفوظ علاقوں میں پناہ گزین کیمپوں میں مقیم ہے۔