.

شامی صدر کی مشیر کا چکمہ.. آن لائن لیکچر کے ذریعے واشنگٹن میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں جمعرات کے روز "نیشنل پریس کلب" میں ایک سیمینار کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ سیمینار کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں شامی صدر بشار الاسد کی سیاسی اور ذرائع ابلاغ کی مشیر بثنیہ شعبان بھی شرکت کررہی ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ 6 سالوں سے عائد امریکی پابندیوں کے سبب بثینہ کا امریکا میں داخلہ ممنوع ہے۔

سیمینار کے آغاز کا وقت جمعرات کی صبح مقامی وقت کے مطابق 8:30 بجے ہے۔ بثینہ شعبان سیمینار میں آن لائن شریک ہوں گی۔ وہ اسکائپ کے ذریعے شامی دارالحکومت دمشق سے 9400 کلومیٹر سے زیادہ کے فاصلے پر واشنگٹن میں نیشنل پریس کلب میں موجود سیمینار کے شرکاء کے سامنے شامی حکومت کے انسداد دہشت گردی نظام کے بارے لیکچر دیں گی۔

سیمینار میں بثینہ کی شرکت کے بارے میں اعلان سے امریکی دارالحکومت میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد حیرت میں مبتلا ہوگئی کیوں کہ ان کو 2011 سے مختلف نوعیت کی امریکی پابندیوں کا سامنا ہے۔ بثینہ کو دعوت دینے اور سیمینار کا انعقاد کرنے والی تنظیم Gafta وسطی امریکا میں بالکل غیر معروف ہے۔ سیمینار کے شرکاء میں عراقی حکومت کے ایک سرکاری سکریٹری بسام الحسینی اور ریاست مشی گن کے شہر ڈئربورن میں "كربلاء اسلامی مرکز" کے ڈائریکٹر الشیخ ہشام الحسینی بھی شامل ہیں۔ الشیخ ہشام "امریکا میں مسلمانوں کی جانب سے" خطاب کریں گے۔

بثینہ شعبان پر امریکی پابندیاں کاغذ کی حد تک

"گافتا" تنظیم 37 برس سے امریکا میں مقیم ایک عراقی احمد مكی قبہ نے قائم کی ہے۔ یہ نام دراصل Global Alliance for Terminating Alqaeda/ISIS کا مخفف ہے۔ اس کا مقصد دنیا بھر کے ممالک اور حکومتوں کو "ان دہشت گرد تنظیموں کے شر کے خاتمے" کی دعوت دینا ہے۔ تنظیم کے بانی احمد مکی نے بدھ کی سب العربیہ ڈاٹ نیٹ سے ٹیلیفونک گفتگو میں بتایا کہ سیمینار میں بثینہ شعبان کو گفتگو کی دعوت اس واسطے کی گئی کیوں کہ وہ ایک ایسے ملک سے تعلق رکھتی ہیں جو عراق کی طرح ایک ہی وقت میں القاعدہ اور داعش کے عذاب سے دوچار ہے۔ پریس کلب میں 120 افراد کی گنجائش والے ہال میں بثینہ کا لیکچر دو گھنٹے سے زیادہ دورانیے پر مشتمل ہوگا۔

احمد مکی نے واضح کیا کہ وہ مسقتبل میں ایک بڑی کانفرنس منعقد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس میں ان ممالک کے نمائندوں کو دعوت دی جائے گی جو "داعش" اور "القاعدہ" کے خلاف عملی طور پر زمینی جنگ میں مصروف ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے احمد مکی سے یہ سوال بھی پوچھا کہ آیا ان کے پاس ایسی معلومات ہیں کہ شام کی سرکاری فوج "داعش" یا "القاعدہ" کے خلاف لڑی ہے اور اس کے نتیجے میں ہی بثینہ شعبان کو ان دونوں شدت پسند تنظیموں کے انسداد کے بارے میں گفتگو کی دعوت دی گئی ہے۔ اس پر احمد کا جواب تھا کہ "یہ اہم بات نہیں اور نہ ہی یہ ہماری ذمہ داری ہے۔ یہ سوال سیمینار میں بثینہ شعبان سے پوچھا جانا چاہیے نہ کہ ذاتی طور پر مجھ سے"۔ احمد نے یہ بھی بتایا کہ بدھ کی شب دس بجے تک تو امریکی انتظامیہ نے بثینہ کو شرکت سے روکنے کے حوالے سے ان کی تنظیم کو آگاہ نہیں کیا تھا۔ لہذا ان پر امریکی پابندیاں کاغذ کی حد تک ہیں۔