.

ایران دہشت گردی کا سب سے بڑا سرپرست قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت خارجہ کی 2015 کے لیے بین الاقوامی دہشت گردی رپورٹ میں ایران کو "دنیا میں دہشت گردی کا سب سے بڑا سرپرست" قرار دیا گیا ہے۔ اس کی وجوہات میں شام اور عراق میں تہران کی مداخلت اور وہاں تشدد کی سپورٹ، مشرق وسطی میں امن و امان کی صورت حال کو غیر مستحکم کرنا، بحرین میں اپوزیشن کی جانب سے کی جانے والی پرتشدد کارروائیوں میں ایران کا ہاتھ ہونا، اسی طرح لبنانی حزب اللہ جیسی شدت پسند تنظیموں کی سپورٹ اور پاسداران انقلاب کے ذیلی بریگیڈ فیلق القدس کے ذریعے مشرق وسطی کو غیرمستحکم کرنا شامل ہیں۔

جمعرات کے روز جاری ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ممالک میں ایران کے سرفہرست ہونے کی مرکزی وجوہات میں فیلق القدس کو ایرانی خارجہ پالیسی کے مقاصد کے حصول کے واسطے استعمال کیا جانا ہے۔ اس کے نتیجے میں پورے مشرق وسطی میں امن و استحکام متزلزل ہوگیا۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ایران ابھی تک حزب اللہ جیسی جماعتوں اور عراق میں متعدد دہشت گرد شیعہ ملیشیاؤں مثلا حزب اللہ بریگیڈز کو اسلحہ اور مالی سپورٹ پیش کررہا ہے۔ یہ دونوں ہی جماعتیں دہشت گردی کی فہرست میں شامل ہیں۔

امریکی وزارت خارجہ نے عالمی دہشت گردی سے متعلق اپنی رپورٹ میں مزید کہا ہے کہ گزشتہ برس دنیا بھر میں دہشت گرد حملوں کی تعداد میں 2012 کے بعد پہلی مرتبہ کمی واقع ہوئی ہے۔

اس سلسلے میں حوالہ دیا گیا ہے کہ گزشہ برس دہشت گرد حملوں میں 2014 کے مقابلے میں تقریبا 13 فی صد کمی ہوئی جب کہ دہشت گردی میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد میں تقریبا 14 فی صد کمی واقع ہوئی۔

دہشت گردی کی سرپرستی سے متعلق فہرست میں شامل دیگر ممالک میں شام اور سوڈان بھی ہیں۔ البتہ کیوبا کو فہرست سے خارج کردیا گیا ہے جب کہ داعش تنظیم کو بین الاقوامی طور پر سب سے بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔