.

فلوجہ آپریشن ایرانیوں کے ہاتھوں یرغمال، فرقہ وارانہ رنگ نمایاں

آپریشن کنٹرول میں خمینی کی تصاویر، ’شکریہ ایران‘ کے نعروں کی چاکنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں شدت پسند گروپ داعش کے زیر قبضہ فلوجہ شہر کی آزادی کے لیے شروع کیے گئے عراقی سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے حوالے سے کئی چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ایک ہفتہ پیشتر جب فلوجہ شہر میں داعش کے خلاف آپریشن کا آغاز ہوا تو یہ خبریں آنا شروع ہوگئی تھیں کہ اس آپریشن کی نگرانی ایرانی پاسداران انقلاب کے سینیر عہدیدار کررہے ہیں۔ نیز یہ جنگ فرقہ واریت کی شکل میں لڑی جا رہی ہے جس میں اہل سنت مسلک کے لوگوں کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فلوجہ آپریشن میں ایرانی رنگ آمیزی کا تازہ انکشاف حال ہی میں اس وقت ہوا جب پتا چلا کہ آپریشن میں سرگرم حشد الشعبی اور ایرانی پاسداران انقلاب کے درمیان رابطے کے لیے استعمال ہونے والے وائر لیس مواصلات آلات میں فارسی زبان استعمال کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ فلوجہ آپریشن کنٹرول روم میں ایران میں ولایت فقیہ کے بانی آیت اللہ علی خمینی کی تصاویر رکھی گئی ہیں۔

ایرانی ذرائع ابلاغ نے ان فوجی عہدیداروں کی تصاویر بھی شائع کی ہیں جو فلوجہ میں جاری آپریشن میں عراقی شیعہ ملیشیا حشدالشعبی کی معاونت کررہے ہیں۔ ان میں پاسداران انقلاب کی بیرون ملک سرگرم القدس ملیشیا کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی اور ایرانی بری فوج کے سربراہ جنرل محمد باکبور نمایاں طور پر دیکھے جاسکتے ہیں۔

فلوجہ آپریشن کور کرنے والے ’بی بی سی‘ عربی سروس کے نامہ نگار جیم مویر نے کہا ہے کہ فلوجہ آپریشن کنٹرول روم میں رابطے کے لیے استعمال ہونے والے مواصلاتی آلات میں عربی اور فارسی دونوں زبانوں میں بات چیت کی جاتی ہے۔ جنرل قاسم سلیمانی اور حشد الشعبی ملیشیا کے درمیان رابطے صرف فارسی زبان میں ہو رہے ہیں جب کہ عراقی فوج ’واکی ٹاکی‘ وائر لیس کے ذریعے عربی میں باہم رابطہ کرتے ہیں۔

آپریشن کنٹرول روم کے اندر کا منظربھی متنازع ہے جہاں دیواروں پر آیت اللہ علی خمینی کی تصاویر چسپاں کی گئی ہیں۔ داعشی جنگجوؤں سے چھڑائے گئے علاقوں میں دیواروں پر ’شکریہ ایران‘، ’شکریہ جنرل سلیمانی‘ جیسے متنازع نعروں کی چاکنگ بھی کی گئی ہے۔

مبصرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ فلوجہ آپریشن ایرانی فوجی عہدیداروں کے ہاتھوں یرغمال ہونے کے سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ فلوجہ سنی اکثریتی علاقہ ہے۔ خدشہ ہے کہ آپریشن کے دوران ایران نواز ملیشیا داعشی جنگجوؤں کی سرکوبی کی آڑ میں عام سنی شہریوں کا قتل عام کرسکتی ہے۔

جنرل سلیمانی کی عراق میں موجودگی کو خود عراقی سیاسی حلقوں میں کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ حال ہی میں الانبار صوبے کے ارکان پارلیمنٹ نے مشترکہ طور پر جنرل قاسم سلیمانی کی عراق میں موجودگی کی مذمت کرتے ہوئے فلوجہ آپریشن کو فرقہ واریت سے پاک کرنے کا مطالبہ کیا۔