.

پاپولر موبیلائزیشن ملیشیا کا رُسوخ عراقی فوج سے بھی زیادہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں سابق اور موجودہ امریکی فوجی اور شہری ذمہ داران کا خیال ہے کہ سرکاری فوج کی تنظیم نو کے لیے 17 ماہ سے جاری کوششیں بڑی تعداد میں لڑائی کے فعال یونٹ تیار کرنے یا فرقہ وارانہ ملیشیاؤں کی فورس بالخصوص پاپولر موبیلائزیشن [الحشد الشعبی] ملیشیاؤں پر روک لگانے میں ناکام ہوچکی ہیں۔

امریکی فوجی ذمہ داران نے بتایا کہ عراق کی سرکاری فوج کے یونٹوں کی مسلسل کمزوری اور مسلح ملیشیاؤں (پاپولر موبیلائزیشن) پر انحصار کے نتیجے میں، داعش تنظیم کو شکست دینے اور عراقیوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے وزیراعظم حیدر العبادی کی وسیع پیرائے میں کوششیں برباد ہوسکتی ہیں۔

ناقدین نے بعض عسکری کامیابیوں کو تسلیم کرتے ہوئے امریکیوں کے ہاتھوں تربیت پانے والی عراقی اسپیشل فورسز کی جاری کامیابیوں کا حوالہ دیا ہے جو دو سال سے داعش کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ تاہم 4000 اہل کاروں پر مشتمل امریکی فوجی وجود عراقی پالیسی کی اُس ڈگر کو تبدیل کرنے میں ناکام ہوچکا ہے جو فرقہ وارانہ گروپوں کو پروان چڑھا رہی ہے۔

امریکی فوج کے ریٹائرڈ جنرل مک بیڈنارک جنہوں نے 2013 اور 2015 کے درمیان عراقی فوج کے تربیتی پروگرام کی قیادت کی، ان کا کہنا ہے کہ عراقی فوج کی کارکردگی میں گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران بڑے پیمانے پر بہتری دیکھنے میں نہیں آئی۔

بیڈنارک اور دو سینئر امریکی افسران نے بتایا کہ عراقی اسپیشل فورسز حکومت کے زیرانتظام وہ واحد فورس ہے جو فرقہ واریت کے بغیر کام کررہی ہے اور یہ سب سے زیادہ فعال بھی ہے۔

موبیلائزیشن ملیشیائیں حکام کی غیرموجودگی سے فائدہ اٹھا رہی ہیں

امریکی فوجی ذمہ داران کا کہنا ہے کہ عراقی سرکاری فوج کے یونٹ عام طور سے دور بیٹھ کر، عراقی اسپیشل فورسز اور پاپولر موبیلائزیشن فورسز کی جانب سے داعش کے قبضے میں موجود اراضی کو واپس لینے کی کارروائیوں کا جائزہ لیتے ہیں۔

امریکی فوج کے ایک حالیہ افسر کا کہنا ہے کہ پاپولر موبیلائزیشن کی ملیشیاؤں کا کمانڈر انجینئر ابو مہدی صلاح الدین صوبے میں عراقی فوج کی کارروائیوں کو کنٹرول کرتا ہے۔ اس بات کی تصدیق صوبے میں صورت حال کی نگرانی کرنے والے تین عراقی ذمہ داران نے بھی کی ہے۔

امریکی وزارت خزانہ نے 2009 میں ابو مہدی کے عراق میں امریکی فورسز پر حملے میں ملوث ہونے کے سبب پابندیاں عائد کی تھیں۔ اس کے علاوہ وہ 1983 میں کویت میں امریکی اور فرانسیسی سفارت خانوں کے دھماکوں کے حوالے سے بھی کویتی عدالتوں میں مجرم ٹھہرایا گیا۔

امریکی فوج کے چار افسران کا کہنا ہے کہ ملک کے مشرقی صوبے دیالی میں عراقی فوج کی پانچویں ڈویژن وسیع نفوذ کی حامل بدر تنظیم کے زیرقیادت شمار کی جاتی ہے۔ بدر تنظیم کے ایرانی پاسداران انقلاب کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں۔

ادھر بغداد میں امریکی فوج کے افسران کا اندازہ ہے کہ عراقی فوج کے آپریشنز کمانڈ کو چلانے والے 300 افسران میں دس سے بیس فی صد کا بدر تنظیم یا الصدری تحریک کے سربراہ مقتدی الصدر کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔

ایک اعلی امریکی فوجی ذمہ دار اور عراقی حکومت کے تین اعلی اہل کاروں نے بتایا کہ گزشتہ اکتوبر میں عراقی اسپیشل فورسز اور امریکی فضائیہ کی مشترکہ کامیاب کارروائی میں بیجی شہر کی تیل کی ریفائنری واپس لیے جانے کے بعد ملیشیاؤں کے جنگجوؤں نے ریفائنری کا تمام سامان لوٹ لیا تھا۔

العبادی کی حکومت ملیشیاؤں کا دفاع کر رہی ہے

عراقی وزارت دفاع کے ترجمان یحیی رسول نے ان ملیشیاؤں کو "مسلح افواج کے سربراہ کے دفتر سے تعلق رکھنے والا سرکاری ادارہ سمجھ لیں"۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان عناصر کو صرف سرکاری ذمہ داران کی جانب سے ہی احکامات ملتے ہیں اور یہ فوج اور پولیس کی سپورٹ میں ایک بڑا کردار ادا کرتے ہیں۔

عراق کے سابق وزیر برائے انسانی حقوق اور بدر تنظیم کے ایک نمایاں رہ نما محمد البیاتی اس وقت صلاح الدین صوبے میں عراقی فورسز کی قیادت کررہے ہیں۔ البیاتی نے ایک غیرملکی نیوز ایجنسی سے گفتگو میں دعوی کیا کہ ان ملیشیاؤں کے خود سے کام کرنے سے متعلق تمام رپورٹیں بے بنیاد اور جھوٹی ہیں۔

امریکی اندیشے

تاہم امریکی فوج کے سابق اور حالیہ ذمہ داران اور علاقے میں قبائلی رہ نماؤں کا کہنا ہے کہ مسلح ملیشیائیں ابھی تک سنی اکثریت کے علاقوں میں داعش تنظیم کی ہزیمت کے بعد انتظامی خلاء کا فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ سرکاری فوج کے یونٹوں کی عدم موجودگی میں یہ ملیشیائیں ہی نمایاں ترین کھلاڑی ہوتی ہیں۔

عراق کی دو وزارتوں داخلہ اور دفاع کے لیے امریکی حکومت کے سابق مشیر نارمن رکلفز کا کہنا ہے کہ ریاست داعش سے واپس لیے جانے والے زیادہ تر علاقوں میں پیدا ہونے والے خلاء کو پر کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ رکلفز پابندی کے ساتھ عراق کا دورہ کرتے ہیں اور ان کا ابھی تک عراقی سیکورٹی اداروں اور سیاست دانوں کے ساتھ تعلق ہے۔

رکلفز کے مطابق مشرقی عراق میں سامراء اور تکریت جیسے شہروں میں مسلح ملیشیائیں اہم ترین فورس ہیں اور وہ ان شہروں کو چلا رہی ہیں۔

2008ء کے بعد پہلا موقع ہے کہ حکومت نے مسلح ملیشیاؤں کے حق میں شہروں کے بڑے حصوں کا کنٹرول کھو دیا ہے۔

عراقی فوج بہتر ہو رہی ہے: امریکا

عراق میں امریکی فوج کے ترجمان کرنل کرس جارور کا کہنا ہے کہ تمام تر مشکلات کے باوجود امریکی فوج کے خیال میں عراقی فوج کے یونٹ تربیت کے بعد بہتر ہو رہے ہیں۔

تاہم جارور نے اقرار کیا کہ فوجی حملوں کا بڑا حصہ اسپیشل فورسز کے ذریعے عمل میں آتا ہے اور دو سال کی لڑائی میں ان کا مرکزی کردار رہا ہے۔

جارور نے مزید کہا کہ عراقی حکومت نے اسپیشل آپریشن فورسز پر شدید انحصار کیا۔ اس حوالے سے ان فورسز کے متاثر ہونے اور ان کے لڑنے کی اثر پذیری کم ہونے کے سلسلے میں حقیقی تشویش پائی جاتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "عراقی سرکاری فوج ابھی تک اپنی تعداد میں اضافے کے لیے تگ و دو کر رہی ہے۔ بھرتی اور مالی رقوم کی فراہمی عراق کی حکومت کے سامنے دو حقیقی چیلنج بن چکے ہیں۔ یہ ایسی دو مسائل ہیں جن سے عراقی حکومت کو نمٹنا چاہیے"۔

ادھر عراقی وزارت دفاع کے ترجمان یحیی رسول نے کا کہنا ہے کہ "ہمارے پاس ایسی فورسز ہیں جو داعش سے اراضی واپس لینے میں کامیاب رہیں۔ موصل کے سقوط کے بعد وزارت دفاع میں مشترکہ قیادت نے عراقی سیکورٹی فورسز کو دوبارہ سے تیار کر کے انہیں تربیت دی"۔

سابق اور حالیہ امریکی ذمہ داران کے مطابق فلوجہ پر حملہ ایک مرتبہ پھر سرکاری فوج کے یونٹوں کی کمزوری سامنے لے آئے گا۔