.

یمنی باغیوں کے ہاں یرغمال وزیردفاع کی رہائی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت کی میزبانی میں یمن میں متحارب فریقین کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے سلسلے میں ہونے والے مذاکرات میں حکومتی مذاکراتی ٹیم نے باغیوں کے ہاں یرغمال وزیردفاع میجر جنرل محمود الصبیحی سمیت دیگر اہم رہ نماؤں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ہفتے کے روز یمنی حکومت کی جانب سے قائم کردہ قیدیوں کی رہائی کے امور طے کرنے کے لیے قائم کمیٹی اقوام متحدہ کے امن مندوب اسماعیل والد الشیخ احمد سے ملاقات کی۔ ملاقات میں ماہ صیام سے پہلے یمن میں باغیوں کے ہاتھوں یرغمال سیاسی اور فوجی رہ نماؤں کی رہائی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

حکومتی ٹیم اور اقوام متحدہ کے مندوب کے درمیان ہونے والی بات چیت میں سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 پرعمل درآمد یقینی بنانے سے بھی اتفاق کیا گیا۔ حکومتی مذاکراتی ٹیم کی جانب سے اقوام متحدہ کے مندوب سے پرزور مطالبہ کیا گیا کہ وہ دیگر سیاسی قیدیوں کے ساتھ ساتھ باغیوں کے ہاتھوں ایک سال سے یرغمال وزیردفاع میجر جنرل محمود الصبیحی کی بہ حفاظت بازیابی اور رہائی کو یقینی بنائیں۔

حکومتی مذاکرات کاروں نے قیدیوں کے تبادلے کی تمام سرگرمیاں اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں بالخصوص ریڈ کراس کے ذریعے عمل میں لائے جانے سے اتفاق کیا اور مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ حوثی باغیوں اور علی صالح ملیشیا کو بھی اس بات کا پابند بنائے کہ وہ اسیران کی بہ حفاظت رہائی کا بندو بست کریں۔

خیال رہے کہ یمن میں حال ہی میں حکومت اور باغیوں کے درمیان کویت میں ہونے والے مذاکرات میں فریقین نے ایک دوسرے کےیرغمال بنائے گئے افراد کو رہا کرنے سے اتفاق کیا تھا مگر اس اتفاق رائے کے باوجود دو روز قبل باغیوں نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 پرعمل درآمد سے انکار کردیا تھا جس کے بعد قیدیوں کی رہائی کا معاملہ ایک بارپھر تعطل کا شکار ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق باغیوں کو تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا مگر باغی یرغمال وزیردفاع سمیت کئی دوسری اہم شخصیات کی رہائی میں پس وپیش سے کام لے رہے ہیں۔