.

یمن: تعز میں شہریوں پر باغیوں کی راکٹ باری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں باغی ملیشیاؤں نے بین الاقوامی سطح پر مذمت اور تحقیقات کے مطالبوں کے باوجود تعز میں شہری علاقوں پر اپنے راکٹ حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

تعز شہر میں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے راکٹ حملوں میں متعدد شہریوں کے جاں بحق اور زخمی ہونے کی پر زور مذمت کی اور احتجاجی نعرے لگائے۔

غم و غصے سے بپھرے ہوئے مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ حوثی اور معزول صدر علی صالح کی ملیشیاؤں کے جرائم کو فوری طور پر روکا جائے جہاں کئی روز سے شہر کے بیچ اور اطراف میں رہائشی علاقوں پر بمباری کا سلسلہ جاری ہے۔

ادھر اقوام متحدہ نے مذکورہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور اس حوالے سے تحقیقات کرنے پر بھی زور دیا ہے۔ اس سے قبل یمنی وزیر خارجہ عبدالملک المخلافی نے عالمی برادری سے ہنگامی طور پر اپیل کی تھی کہ تعز میں ملیشیاؤں کے جرائم روکنے کے لیے فوری اور نمایاں اقدامات کیے جائیں۔

دوسری جانب کویت میں امن بات چیت کے حوالے سے یہ خبریں گردش میں ہیں کہ یمنی حکومت کے وفد نے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کے ساتھ مشاورت سے متعلقہ معاملات پر گفتگو روک دی ہے تاکہ بات چیت صرف تعز میں اندھادھند شدید بمباری اور درجنوں شہریوں کے جاں بحق اور زخمی ہونے کے معاملے تک محدود رہے۔

تعز کے مشرقی حصوں اور کلابہ اور ثعابات کے علاقوں پر راکٹ حملے جاری رہنے کے ساتھ ساتھ تعز صوبے کی جنوبی سرحد کے نزدیک متعدد محاذوں پر وقفے وقفے سے جھڑپوں میں بھی ہورہی ہیں۔

باب المندب کے شمال میں ذباب کے محاذ پر باغی ملیشیاؤں اور عوامی مزاحمت کاروں کے درمیان توپوں سے گولہ باری اور راکٹ حملوں کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں متعدد باغی ہلاک ہوئے۔