.

تل ابیب حملے کے بعد تمام فلسطینیوں کا اسرائیل میں داخلہ بند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے تل ابیب میں حملے کے بعد تمام فلسطینیوں کے اسرائیل میں داخلے پر عارضی طور پر پابندی عاید کردی ہے۔

صہیونی فوج تل ابیب میں ایک مسلح فلسطینی کی فائرنگ سے چار اسرائیلیوں کی ہلاکت کے بعد فلسطینیوں کی نقل وحرکت محدود کرنے کے لیے سخت اقدامات کررہی ہے اور اس سے پہلے اس نے ہزاروں فلسطینیوں کو جاری کردہ اجازت نامے بھی منسوخ کردیے ہیں۔

اسرائیلی فوج کی خاتون ترجمان نے کہا ہے کہ ''حکومت کی ہدایات کی روشنی میں اور صورت حال کے جائزے کے بعد آج (جمعہ) سے غزہ کی پٹی ،جدعیا اور سمیریا (غرب اردن) سے بارڈر کراسنگ سے صرف مریض فلسطینیوں اور انسانی کیسوں کو گذرنے کی اجازت ہوگی''۔
درایں اثناء امریکی محکمہ خارجہ نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ تمام بے گناہ فلسطینیوں کو اجتماعی سزا نہ دے۔اس نے یہ بیان اسرائیل کی جانب سے 83 ہزار فلسطینیوں کے سفری اجازت نامے منسوخ کیے جانے کے بعد جاری کیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے واشنگٹن میں ایک نیوز بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ ''ہم اسرائیلی حکومت کی اپنے شہریوں کو تحفظ مہیا کرنے کی خواہش کو سمجھتے ہیں۔ہم اس حق کی پوری شدومد کے ساتھ حمایت کرتے ہیں لیکن ہم یہ بھی توقع کرتے ہیں کہ وہ جو کوئی بھی اقدام کرے گا تو وہ اس کے فلسطینی شہریوں پر اثرات کو بھی ملحوظ رکھے گا جنھیں زندگی کے روزمرہ امور کی انجام دہی کے سلسلے میں سفر کرنا پڑتا ہے''۔