.

صنعاء: صنف نازک کا احتجاج دبانے کے لیے حوثی خواتین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی دارالحکومت صنعاء میں حوثی باغیوں نے پہلی مرتبہ اپنی ملیشیاؤں کے خواتین ونگ کو استعمال کیا۔ خواتین عناصر کو دارالحکومت میں اٹارنی جنرل کے دفتر کے سامنے عورتوں کے احتجاج کو دبانے کے لیے میدان میں لایا گیا۔

ذرائع کے مطابق خواتین کے کچھ گروپوں نے جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ حوثی ملیشیاؤں کے زیرانتظام خواتین پولیس اہل کار تھیں، صنعاء میں مُغوی یمنی صحافیوں کی ماؤں کی جانب سے کیے جانے والے احتجاجی مظاہرے پر دھاوا بول دیا۔ مذکورہ صحافی حوثیوں کی جیلوں میں قید ہیں اور 9 جون کو ملیشیاؤں کی جانب سے انہیں اغوا کیے جانے کا ایک سال مکمل ہوگیا۔

زمینی ذرائع کے مطابق حوثی ملیشیاؤں کی خواتین نے احجتجاج کرنے والی عورتوں کو ہاتھوں اور لاٹھیوں سے تشدد کا نشانہ بنایا اور عسکری ٹیموں کی موجودگی میں انہیں بزور طاقت منتشر کردیا۔

اس کارروائی پر تبصرہ کرتے ہوئے انسانی حقوق کے سرگرم کارکن محمد ناجی کا کہنا ہے کہ "کئی ماہ قبل حوثی مسلح عناصر نے صنعاء میں خواتین کے مظاہرے پر حملہ کیا تھا۔ اسی طرح ملیشیاؤں نے ملک کے مغرب شہر الحدیدہ میں بھی احتجاج کرنے والی خواتین پر دھاوا بولا تھا۔ ان کارروائیوں سے عوام میں وسیع پیمانے پر غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ اس لیے کہ حوثی ملیشیاؤں نے تمام تر سماجی رواجوں کو پامال کردیا جو خواتین پر مردوں کے حملے سے روکتی ہیں۔ اس امر نے حوثیوں کو مجبور کردیا کہ وہ خواتین پولیس تشکیل دیں جو احتجاج اور ملیشیاؤں کی مخالفت کرنے والی خواتین کے خلاف کریک ڈاؤن کریں"۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس طرح کی بھی معلومات ہیں کہ حوثیوں کی خواتین پولیس اہل کاروں کو ایرانی سیکورٹی ماہرین کے ذریعے تربیت فراہم کی گئی ہے۔

دوسری جانب حوثی گروپوں نے الزراعہ اسٹریٹ پر یمنی صحافیوں کی انجمن کے صدر دفتر کے سامنے، مُغوی افراد کی ماؤں کو احتجاج کرنے سے روک دیا۔