.

فلوجہ: سنی شہریوں کے قاتل شیعہ ملیشیا کے جنگجو گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی حکومت نے مغربی شہر فلوجہ کا کنٹرول واپس لینے کے لیے داعش کے جنگجوؤں کے خلاف لڑائی میں شریک شیعہ ملیشیاؤں کے ہاتھوں سُنی شہریوں کے اجتماعی قتل کی تحقیقات شروع کردی ہے اور جانیں بچا کر فرار ہوتے شہریوں کو فائرنگ کا نشانہ بنانے والے متعدد افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

عراقی حکومت کے ترجمان سعد الحدیثی نے سوموار کو ایک بیان میں اس امر کی تصدیق کی ہے کہ حکام خلاف ورزیوں کا جائزہ لے رہے ہیں اور متعدد افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ان سے قبل صوبہ الانبار کے گورنر صہیب الراوی نے بتایا تھا کہ ایک شیعہ ملیشیا نے خود کو حوالے کرنے والے انچاس سُنی مردوں کو فائرنگ کرکے موت کی نیند سلا دیا ہے۔

انھوں نے اتوار کو ایک بیان میں بتایا کہ'' 3 جون اور 5جون کے درمیان 643 افراد لاپتا ہوگئے ہیں۔گرفتار کیے گئے افراد کو مختلف طریقوں سے اجتماعی تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے''۔

حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ ''شہریوں کے تحفظ کے لیے سخت احکامات جاری کردیے گئے ہیں اور یہ ہدایات شیعہ ملیشیاؤں کے اتحاد الحشد الشعبی کے بارے میں بھی جاری کردی گئی ہیں''۔الحشد الشعبی کو ایران کے پاسداران انقلاب کے کمانڈروں نے منظم کیا ہے اور وہی داعش مخالف جنگ میں ان کی رہ نمائی کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور مختلف گروپ عراقی ملیشیا کے شانہ بشانہ شیعہ ملیشیاؤں کے فلوجہ میں داعش کے خلاف لڑائی میں حصہ لینے پر فرقہ وارانہ بنیاد پر ہلاکتوں کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

اقوام متحدہ نے گذشتہ ہفتے عراقی سکیورٹی فورسز کے اتحادی مسلح گروپوں کے ہاتھوں فلوجہ سے جانیں بچا کر آنے والے مردوں اور لڑکوں سے انسانیت سوز سلوک سے متعلق قابل اعتبار مگر خوف ناک رپورٹس کی اطلاع دی تھی۔

عراقی حکام فلوجہ سے جانیں بچاکر آنے والے پندرہ سال سے زیادہ عمر کے لڑکوں اور مردوں کو ان کے خاندانوں سے الگ کر لیتے ہیں۔پھر ان کی مکمل جانچ پرکھ کی جاتی ہے کہ ان سے کوئی سکیورٹی خطرہ تو لاحق نہیں ہے اور وہ یہ بھی جائزہ لیتے ہیں کہ کہیں وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں یا جنگی جرائم میں تو ملوّث نہیں۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشنر زید رعد الحسین نے کہا ہے کہ فلوجہ سے آنے والے شہریوں کی سکریننگ تو قانونی تھی لیکن اس کو پیراملٹری گروپوں کے ذریعے انجام نہیں دیا جانا چاہیے تھا۔

انھوں نے کہا کہ ''فلوجہ کے شہری گذشتہ ڈھائی سال کے دوران داعش کے تحت جہنم زار میں رہتے رہے ہیں۔انھیں وہاں سے راہ فراد اختیار کرنے کی صورت میں خطرناک صورت حال اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سامنا تھا''۔

امریکا کی قیادت میں اتحاد کے ترجمان کرنل کرس گارور نے کہا ہے کہ ''عراقی وزیر اعظم حیدرالعبادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے آگاہ ہیں اور انھوں نے ان کے ذمے داروں کے احتساب کا مطالبہ کیا ہے اور ہمارے خیال میں یہی درست راستہ ہے''۔

عراقی فوج اور اس کی اتحادی ملیشیاؤں نے 23مئی کو امریکا کی قیادت میں اتحاد کی فضائی مدد سے فلوجہ میں داعش کے خلاف بڑی کارروائی شروع کی تھی۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ نوّے ہزار سے زیادہ شہری فلوجہ میں پھنس کررہ گئے ہیں اور اب شہر میں خوراک اور پانی کی قلت ہوتی جارہی ہے۔