.

مُستعفی ہونے کا نہیں سوچ رہا : تیونسی وزیراعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس میں صدر الباجی قائد السبسی کی جانب سے "قومی اتحاد" کی حکومت کی تشکیل سے متعلق منصوبے نے سیاسی منظرنامے میں بھونچال پیدا کردیا۔ اس اقدام نے وزیراعظم الحبیب الصید سمیت تمام ہی لوگوں کو حیران کردیا۔ تاہم انہوں نے معمول کے مطابق کام جاری رکھا اور واضح طور پر یہ پیغام دیا کہ صدارتی منصوبے سے ان کی حکومت کے کام پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے ، ان کی حکومت کو تمام تر آئینی اختیارات اور پارلیمنٹ کا اعتماد حاصل ہے۔

صدر کے فیصلے نے مجھے حیران کر دیا : الصید

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے ساتھ گفتگو میں تیونس کے وزیراعظم الحبیب الصید نے اپنی حکومت کے خاتمے اور اس کی جگہ قومی اتحاد کی حکومت لانے سے متعلق منصوبے کے حوالے سے اپنے تاثرات کو چھپانے کی کوشش کی۔ تاہم ان کے تبصروں سے معلوم ہوا کہ منصوبے کے پیش کیے جانے کا "وقت" ان کے لیے حیرت کا باعث بنا ، بالخصوص جب کہ ان کی حکومت کو متعدد چیلنجوں کا سامنا ہے۔ اس دوران الصید نے دہشت گردی کے خطرے کی جانب اشارہ کیا جو اس سے قبل بھی رمضان میں سر اٹھا چکا ہے۔

الصید کا کہنا تھا کہ وہ اس بات پر صدر قائد السبسی کے ساتھ اتفاق کرتے ہیں کہ حالات اپنی موجودہ ڈگر پر نہیں چل سکتے۔ تاہم ساتھ ہی وہ اس بات پر بھی ڈٹے ہوئے ہیں کہ "حالیہ مرحلے کے انتظامی امور موجودہ حکومت کے باقی رہنے کا تقاضہ کرتے ہیں جس پر بلدیاتی اور مقامی انتخابات کی ذمہ داری عائد ہے"۔

الحبیب الصید کے مطابق بہتر تھا کہ منصوبے کو پیش کرنے سے قبل اُن سے مشاورت کرلی جاتی تاہم اس کے باوجود انہوں نے اپنے اور صدر الباجی قائد السبسی کے درمیان تعلق مضبوط ہونے پر زور دیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ " وہ ذمہ داری سے فرار اختیار کرنے والوں میں سے نہیں۔ ملک کو درپیش چیلنجوں اور مسائل کے بیچ ان کے مستعفی ہونے سے ریاست مزید کمزور ہوگی"۔

الصید نے باور کرایا کہ "صدر قائد السبسی نے آخری ملاقات میں اُن سے استعفاء طلب نہیں کیا"۔ یاد رہے کہ صدر السبسی نے 2 جون کو ایک ٹی وی انٹرویو میں واضح انداز میں حکومت کی ناکامی کا ذکر نہیں کیا اور اس طرف اشارہ کیا کہ الصید قومی اتحاد کی حکومت کی قیادت کے لیے امیدوار کے طور پر رہیں گے۔

دیگر منظرنامے بھی ہیں : الصيد

الحبیب الصید نے گزرے ہوئے ہفتے کے دوران حکومت کے انتظامی امور کو بدستور جاری رکھا گویا کہ کچھ ہوا ہی نہیں بلکہ اس کے برعکس انہوں نے خود کو بالکل پرسکون اور نئی حکومت کی تشکیل کے لیے جاری مشاورت کو نظر انداز کرنے والا ظاہر کیا۔

الصید نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو میں باور کرایا کہ وہ "کسی طور مستعفی ہونے کے بارے میں نہیں سوچ رہے اور حکومت کی برطرفی کے لیے دیگر آئینی منظرنامے ہیں"۔

الصید نے واضح کیا کہ مستعفی ہونے سے انکار کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ وہ صدر کے پیش کردہ منصوبے کے خلاف ہیں۔

نئی حکومت کی تشکیل کے لیے گزشتہ جمعرات کو شروع ہونے والی مشاورتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑی اور انتظامی ترامیم کے ساتھ الحبیب الصید اور ان کی حکومت کے اقتدار میں باقی رہنے کا قوی امکان ہے"۔

نئی حکومت کی تشکیل کے مذاکرات میں سُست روی

الصید کے اقتدار میں باقی رہنے کے منظرنامے کو تقویت پہنچانے والے اہم عوامل میں قابل اطمینان متبادل کی عدم دستیابی اور الصید کے مقابل وسیع اور بنیادی اپوزیشن کی عدم موجودگی ہیں۔

تاہم اس سے الصید کی ٹیم اور کارکردگی کے حوالے سے موجود بڑے تحفظات کی تردید نہیں ہوتی۔ ایسے میں سوشل میڈیا پر "اعتماد کے بیرومیٹر" سے معلوم ہوا کہ الحبیب الصید کے لیے لوگوں کے دلوں میں بڑے پیمانے پر ہمدری موجود ہے۔ فیس بک پر صارفین نے ان کو ایک "قومی" اور "شفاف" شخصیت قرار دیا۔

غالبا الصید کے حکومتی سربراہ رہنے کے مفروضے کو جو چیز تقویت پہنچا رہی ہے وہ یہ کہ صدر السبسی نے سیاسی جماعتوں کی قیادت سے ملاقات کے دوران کہا ہے کہ اگر سیاسی جماعتیں اس پر متفق ہوتی ہیں تو انہیں الصید اور ان کی حکومت کے باقی رہنے پر کوئی اعتراض نہیں۔

قائد السبسی نے یہ بھی واضح کیا کہ قومی اتحاد کی حکومت کا منصوبہ متعدد فریقوں کے ساتھ مشاورت اور ملاقات کے بعد پیش کیا گیا۔ اس کا مطلب ہے کہ صدر السبسی حکومت کے مستقبل کے حوالے سے جاری مشاورت کے سلسلے میں بڑی حد تک لچک رکھتے ہیں۔