.

داعش کے خلیفہ کی الرقہ پر امریکی حملے میں ہلاکت کی اطلاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) کے خلیفہ ابوبکر البغدادی مبینہ طور پر شام کے مشرقی شہر الرقہ پر امریکا کے ایک فضائی حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔

برطانوی اخبار ڈیلی میل نے منگل کے روز داعش سے وابستہ ایک نیوز ایجنسی کے حوالے سے خلیفہ ابو بکر البغدادی کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔ایران کے سرکاری میڈیا اور ترک روزنامے یینس سفاک نے بھی ان کی موت سے متعلق رپورٹس جاری کی ہیں لیکن ابھی تک امریکی یا عراقی حکام نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔

واضح رہے کہ ماضی میں بھی متعدد مرتبہ ابوبکر بغدادی کی امریکا کے فضائی حملوں میں ہلاکت یا شدید زخمی ہونے کی اطلاعات مںظرعام پر آچکی ہیں لیکن ان کی بعد میں تصدیق نہیں ہوسکی تھی۔اب بغدادی کی ہلاکت کی اطلاع امریکا کی ریاست فلوریڈا شہر اورلینڈو میں ہم جنس پرستوں کے ایک نائٹ کلب میں ایک مسلح شخص کی اندھا دھند فائرنگ سے پچاس افراد ہلاک ہوگئے تھے اور داعش نے اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

ابوبکر البغدادی عراق کے شہر سامراء میں ایک سنی خاندان کے ہاں 1971ء میں پیدا ہوئے تھے۔ان کا اصل نام ابراہیم عواد ابراہیم البدری ہے اور ان کے قبیلے کا دعویٰ ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاشمی قریشی خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔

گذشتہ ہفتے ہی ابوبکر البغدادی کے عراق کے شام کی سرحد کے نزدیک واقع علاقے میں ایک فضائی حملے میں زخمی ہونے کی اطلاع سامنے آئی تھی لیکن امریکی یا عراقی حکام نے اس کی تصدیق نہیں کی تھی۔

عراق کے السمیریہ ٹی وی چینل نے شمالی صوبے نینویٰ سے تعلق رکھنے والے ایک مقامی ذریعے کے حوالے سے بتایا تھا کہ داعش کے سربراہ اور تنظیم کے دوسرے لیڈر گذشتہ جمعرات کو امریکی اتحادیوں کے ایک فضائی حملے میں زخمی ہوگئے تھے۔یہ حملہ شام کی سرحد کے نزدیک واقع علاقے میں داعش کے ایک کمانڈ ہیڈ کوارٹرز پر کیا گیا تھا۔

2015ء کے اوائل میں برطانوی میڈیا نے امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں کے ایک فضائی حملے میں ابوبکر بغدادی کے زخمی ہونے کی اطلاع دی تھی اور کہا تھا کہ ان کی ریڑھ کی ہڈی کو نقصان پہنچا تھا اور بائیں ٹانگ مبینہ طور پر ناکارہ ہوگئی تھی۔

داعش کو اس وقت عراق اور شام دونوں ملکوں میں سخت ہزیمت میں سامنا ہے۔عراقی سکیورٹی فورسز اور ان کی اتحادی شیعہ ملیشیاؤں نے مغربی شہر فلوجہ میں داعش کے خلاف ایک بڑی مشترکہ کارروائی کررکھی ہے اور اس شہر میں اس کے جنگجو محصور کر رہ گئے ہیں۔

داعش نے جون 2014ء میں عراق کے شمالی شہروں پر یلغار کی تھی آناً فاناً دوسرے بڑے شہر موصل سمیت متعدد شہروں اور قصبوں پر قبضہ کر لیا تھا۔عراقی فورسز نے شمالی شہر تکریت ،مغربی شہر الرمادی اور دوسرے شہروں کو داعش کے جنگجوؤں سے بازیاب کرا لیا ہے۔ ان کی فتح میں امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں کی داعش کے ٹھکانوں پر تباہ کن بمباری کا بڑا کردار رہا ہے۔امریکی اتحادی شام میں بھی داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کررہے ہیں۔