.

میرے فتاویٰ اہل سنت مسلک کے خلاف نہیں: سیستانی

شہریوں کو غیرملکیوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی اجازت دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے سرکردہ شیعہ عالم دین السید علی سیستانی نے ملک میں شیعہ سنی منافرت کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے دفاع وطن کے لیے جتنے فتوے صادر کیے ہیں وہ غیرملکی حملہ آوروں کے خلاف ہیں، ان کا اہل سنت والجماعت مسلک سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے فلوجہ شہر میں دولت اسلامیہ عراق والشام "داعش" کے خلاف جاری آپریشن کے دوران بے گھر ہونے والے شہریوں کو دل کھول کر امداد دینے پر بھی زور دیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اپنے ایک بیان میں علی السیستانی نے کہا کہ میں نے کبھی فرقہ بندی کی حمایت نہیں کی۔ فرقہ بندی ایک لعنت ہے اور میں اسے مسترد کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ موصل، رمادی اور صلاح الدین شہروں میں جاری آپریشن کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے شہریوں کی مالی مدد دوسرے شہریوں کی ذمہ داری ہے۔ اس لیے میں عراقی شہریوں پر زور دیتا ہوں کہ وہ بے گھر ہونے والوں کے لیے اپنے گھروں کےدروازے کھول دیں، انہیں پناہ دیں، ان کی مالی مدد کریں اور خوراک کا انتظام کریں۔ یہ مت پوچھیں کہ تم شیعہ ہو یا سنی۔ بلا تفریق ہر ایک کی مدد کی جائے۔

شیعہ عالم دین کا کہنا تھا کہ عراق میں اہل سنت، اہل تشیع اور مسیحی برادری ہزاروں برسوں سے ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر زندگی گذارتے چلے آ رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب داعش نے عراق کے شہروں کو تاراج کرنا شروع کیا اور ملک میں فساد برپا کردیا تو میں نے اپنے اور مقدس مقامات کے دفاع کے لیے غیرملکیوں کے خلاف لڑنے کا فتویٰ دیا۔ یہ فتویٰ غیر ملکیوں کے خلاف تھا، اسے اہل سنت مسلک کے عراقی بھائیوں کے خلاف استعمال نہ کیا جائے۔ جب آپ رمادی میں لڑرہے ہیں تو آپ اپنے وطن کے دفاع میں لڑ رہے ہیں۔ وہاں داعش کا قبضہ ہے اور داعش نے اہل سنت کو بھی یرغمال بنا رکھا ہے۔ اس لیے دفاع میں لڑنے والے فاتحین نہیں ہیں۔ فوج اور ملیشیا کو دفاع میں لڑتے ہوئے اپنے پرائے کا فرق کرنا ہوگا۔

الشیخ علی سیستانی کا کہنا تھا کہ دس سال گذرگئے ہیں۔ کیا تم نے کبھی یہ سنا کہ میں نے اپنے کسی بیان میں اہل سنت مسلک کے بھائیوں کے خلاف کوئی ایک بھی توہین آمیز جملہ سنا ہو، وہ بھی ایسے وقت میں جب ملک میں فتنہ وفساد کی آگ لگی ہوئی ہے، شہریوں کو ذبح کیا جا رہا ہے اور یہ سب کچھ اہل تشیع مسلک کے اکثریتی علاقوں میں ہوتا ہے۔ تم نے مجھ سے امامین العسکرین کے مزار میں دھماکوں کےبعد فتویٰ مانگا۔ میں اس وقت بھی کہا تھا کہ اہل سنت سے مت لڑنا چاہے وہ عراق کے تمام شہروں سے اہل تشیع کا خاتمہ ہی کیوں نہ کردیں۔