.

خامنہ ای کی نیوکلیئر معاہدہ نذر آتش کرنے کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای نے امریکی صدارتی امیدواروں کو خبردار کیا ہے کہ ایران بڑے ممالک کے ساتھ ہونے والے نیوکلیئر معاہدے سے دست بردار ہو سکتا ہے۔ یہ بات منگل کے روز ایک سرکاری ویب سائٹ پر بتائی گئی۔

خامنہ ای نے باور کرایا کہ " ہم نیوکلیئر معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کر رہے تاہم امریکی صدارتی انتخابات کے امیدوار معاہدے کو پھاڑ دینے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ اگر انہوں نے ایسا کیا تو ہم اس (معاہدے) کو نذر آتش کردیں گے"۔

صدارتی انتخابات میں امریکی ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے نیوکلیئر معاہدے کو " آفت رساں" قرار دیا تھا۔

رواں سال مارچ میں ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ منتخب ہونے کی صورت میں ان کی خارجہ پالیسی کی اولین ترجیحات نیوکلیئر معاہدے کی منسوخی اور ایران کی "دہشت گردی" کے عالمی نیٹ ورک کا خاتمہ ہوں گی۔

گزشتہ برس جولائی میں ایران نے 5+1 گروپ (امریکا، روس، چین، فرانس، برطانیہ اور جرمنی) کے ساتھ نیوکلیئر معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

جنوری سے نافذ العمل معاہدے کے تحت ایران اپنے نیوکلیئر پروگرام میں کمی لائے گا اور اس کے مقابل اُس پر عائد متعدد بین الاقوامی پابندیاں اٹھا لی جائیں گی۔

تہران کی جانب سے یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ واشنگٹن حکومت ایران اور عالمی مالیاتی اداروں بالخصوص بینکوں کے درمیان تعلقات مضبوط بنانے کی کوشش نہیں کر رہا ہے۔

خامنہ ای کا کہنا ہے کہ "دوسری جانب کو پابندیاں اٹھا لینا چاہیے تاہم ایسا نہیں ہوا۔ بینکوں کے ساتھ معاملہ بندی کا مسئلہ بھی منظم نہیں ہوا۔ ہم ابھی تک تیل کی آمدن سے حاصل ہونے والی رقوم اور دیگر ملکوں میں ہمارے پاس موجود رقوم واپس لینے کی قدرت نہیں رکھتے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ " جس طرح ہم وعدوں کی پاسداری کر رہے ہیں، امریکیوں کی جانب سے اُس طرح وعدوں کے بڑے حصے پر عمل درامد نہیں ہو رہا"۔

ایران کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی بینکوں کی اکثریت بالخصوص یورپ میں، امریکی پابندیوں کے خوف سے ایران کے ساتھ معاملات کرتے ہوئے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔