.

ایران : سعودی سفارت خانہ کیس ، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی میں ٹال مٹول

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی عدلیہ کے ترجمان غلام حسين محسنی ايجئی نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک تہران میں سعودی سفارت خانے پر حملہ کرنے والوں کے خلاف ایک مرتبہ پھر عدالتی کارروائی کا ارادہ رکھتا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ملزمان کو آئندہ ماہ 18 جولائی کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ مذکورہ بیان سے سعودی سفارتی مشن کی عمارتوں پر حملوں اور ان کو آگ لگانے کے ذمہ دار عناصر کے خلاف عدالتی کارروائی میں تہران کی ٹال مٹول ظاہر ہوتی ہے۔

ایجئی نے انکشاف کیا کہ مقدمے میں اس وقت کوئی شخص زیر حراست نہیں ہے کیوں کہ تمام گرفتار شدگان کو ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا۔

"تسنيم" نیوز ایجنسی کے مطابق عدلیہ کے ترجمان نے اس سے پہلے باور کرایا تھا کہ 48 افراد کے خلاف چارج شیٹ جاری ہوچکی ہے۔ حملے میں ملوث 3 یا 4 مذہبی شخصیات کے خلاف عدالتی کارروائی خصوصی عدالت میں عمل میں آئے گی جن پر تہران میں سعودی سفارت خانے پر حملے کے واقعے میں شریک ہونے کا الزام ہے۔

ساز باز جاری

واقعے کو 6 ماہ گزر جانے کے باوجود تہران ابھی تک سعودی سفارت خانے پر حملہ آوروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے معاملے میں ساز باز کررہا ہے۔ ایرانی وزیر ثقافت علی جنتی نے 30 اپریل کو اعلان کیا تھا کہ سعودی سفارت خانے پر حملے میں ملوث افراد کو جیل بھیج دیا گیا ہے تاہم جلد ہی جیل سپرنٹنڈنٹ نے مقدمے میں کسی بھی گرفتاری کی تردید کر دی۔

ایرانی حکام 2 جنوری کو تہران میں سعودی سفارت خانے پر دھاوا بول کر اس کو آگ لگانے والوں کی شناخت پر، متضاد اور گمراہ کن خبروں کے ذریعے پردے ڈال رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مذکورہ افراد کا تعلق ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای کے قریب سمجھے جانے والے پریشر گروپوں سے ہے۔ اس بات کا انکشاف باخبر ایرانی ذرائع کی جانب سے کیا گیا تھا۔

رواں سال فروری میں حکام نے کارروائی کے ماسٹر مائنڈ کی گرفتاری اور ملوث افراد کے خلاف عدالتی کارروائی کا اعلان کیا تھا۔ اس کے فوری بعد ایرانی ویب سائٹوں نے سخت گیر مذہبی شخصیت حسن کرد میہن کی رہائی کی کبر نشر کی جو کہ مرشد اعلی علی خامنہ ای کے قریب سمجھے جانے والے پریشر گروپوں کی قیادت کرتا ہے۔

علی خامنہ ای نے جنوری میں ایک خطاب کے دوران "فرزندان انقلاب اور حزب اللہ المؤمن تنظیم کے نوجوانوں" کے تہران میں سعودی سفارت خانے پر دھاوے میں ملوث ہونے کے حوالے سے اٹھنے والی الزامات کی انگلیوں کو مسترد کردیا تھا۔ انہوں نے تمام تر ذمہ داری "سرائیت کرنے والے عناصر" پر ڈال دی جو ان کے نزدیک قانون کی پہنچ سے دور ہوتے ہیں۔

حملہ آوروں کی شناخت

ایرانی باخبر ذرائع نے اصلاح پسند رہ نما مہدی کروبی کے نزدیک شمار کی جانے والی ویب سائٹ "سحام نيوز" کو انکشاف کیا تھا کہ سفارت خانے پر دھوا بولنے والوں کا تعلق ایران میں " ایرانی حزب الله" کے نام سے جانی جانے والی ملیشیاؤں سے ہے۔

ایجنسی کا کہنا ہے کہ یہ لوگ ہی حملے کے بنیادی کردار ہیں۔ واقعے کے روز ایک گروپ تہران کے شمال مشرق میں واقع "مهتدی شہید مرکز" ("شهيد محلّاتي" فوجی علاقے میں پاسداران انقلاب کا ایک صدر دفتر) سے سفارت خانے پر حملے، اس کو نذر آتش کرنے اور سامان کو لوٹنے کے مشن پر نکلا۔ یہ چیز ایرانی مرشد اعلیٰ اور حکومت کے دعوؤں کو غلط ثابت کرتی ہے جو حملے کے سلسلے میں "قانون کی دسترس سے باہر" یا "خفیہ طور پر درانداز" عناصر کو ملامت کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

"سحام نيوز" کے مطابق حملہ آور گروپ میں شامل ایک شخص نے بتایا ہے کہ "باسیج فورس کے ارکان سعودی سفارت خانے پر حملے کے لیے فورس کے ایک صدر دفتر میں جمع ہوئے.. وہاں سے انہیں کارروائی پر عمل درامد کے لیے بھیجا گیا۔ ان افراد کے پاس دستی اور پیٹرول بموں کو فائر کرنے کے لیے خصوصی ہتھیار بھی تھے جن کے ذریعے سفارت خانے کی عمارت میں آگ لگا دی گئی"۔

اسی ذریعے کے مطابق "باسیج فورس کے حملہ آور ارکان نے سفارت خانے کا سامان لوٹ کر عمارت کے باہر پہنچا دیا. اگرچہ سفارت خانے کا عملہ اہم دستاویزات کو اپنے ساتھ باہر لے آیا تھا جب کہ کم اہم کاغذات کو عمارت میں ہی چھوڑ دیا گیا. باسیج کے ارکان عمارت کے اندر سے کمپیوٹر، لیپ ٹاپس، موبائل فون اور دیگر انتظامی امور کی اشیاء لے کر مال غنیمت کے طور پر اپنے گھروں کو لے گئے"۔