.

عراق : داعش کے نئے حملوں سے بچاؤ کے سیکورٹی اقدامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں فوجی اور قبائلی ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ مشترکہ فورسز نے حدیثہ شہر پر داعش تنظیم کے نئے حملے کی تیاری کے اندیشے کے سبب شہر کے لیے حفاظتی اقدامات کو بڑھا دیا ہے۔

عراق کے مغرب میں واقع شہر حدیثہ پر دھاوا شدت پسند تنظیم داعش کے لیے ایک عُقدہ بن گیا ہے جہاں متعد حملوں کے بعد بھی وہ کنٹرول حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

داعش نے خودکش حملہ آوروں اور دھماکا خیز مواد سے بھری گاڑیوں کے ذریعے کئی مرتبہ مغربی، جنوبی اور شمالی محوروں سے حدیثہ پر حملوں کی کوشش کی تاہم مشترکہ عراقی فورسز اور قبائلی عناصر نے مل کر نہ صرف ان حملوں کو پسپا کیا بلکہ تنظیم کو بھاری نقصان بھی پہنچایا۔

داعش کی قیادت اپنے آخری حملے کی ناکامی پر رکی نہیں ہے بلکہ انہوں نے ایک اور حملے کے لیے گنتی شروع کردی ہے۔ عسکری ذرائع کے مطابق اس نئے منصوبے کا انکشاف انٹیلجنس معلومات اور حدیثہ کے اطراف قبائلی ذرائع نے کیا ہے۔

قبائلی ذرائع کا کہنا ہے کہ داعش تنظیم دو محوروں سے حدیثہ ڈسٹرکٹ اور البغدادی کی جانب حملہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ دو علاقے الصکرہ اور جزیرت الشامیہ ہے۔ سیکورٹی فورسز نے داعش کے ممکنہ حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے اہل کاروں کو پھیلا دیا ہے۔

سیکورٹی اور قبائلی ذرائع کے مطابق تنظیم نے حدیثہ اور البغدادی پر حملے کے لیے دھماکا خیز مواد سے بھری گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے علاوہ خودکش بمبار بھی تیار کرلیے ہیں۔ تاہم عراقی فوج کے آپریشنز کے ایک کمانڈر بریگیڈیئر جنرل قاسم المحمدی نے داعش کی ان تیاریوں خاص اہمیت نہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی فورسز نے صورت حال کو قابو کیا ہوا ہے اور ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں نے شہر کے اطراف پوزیشنیں لے لی ہیں۔