.

ترک فوجیوں کی سرحد پر در بدر شامیوں پر فائرنگ ،11 ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے سرحدی محافظوں نے شام سے سرحد عبور کرکے ملک میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے شامی شہریوں پر فائرنگ کردی ہے جس کے نتیجے میں چار بچوں سمیت گیارہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

استنبول میں شامی حزب اختلاف کے قومی اتحاد نے سرحدی علاقے میں فائرنگ کے اس واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد گیارہ بتائی ہے اور اس افسوس ناک المیے کی مذمت کی ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے بتایا ہے کہ اتوار کو ترک محافظوں کی فائرنگ سے مرنے والے افراد کا تعلق شمالی شہر منبج سے تھا۔وہ داعش اور امریکا کی حمایت یافتہ فورسز کے درمیان لڑائی کے نتیجے میں بے گھر ہوگئے تھے اور محفوظ پناہ گاہ کی تلاش میں سرحدی علاقے کی جانب آئے تھے۔

وہ صوبہ حلب میں واقع منبج سے جانیں بچا کر شمال مغربی صوبے ادلب کی جانب چلے گئے تھے اور وہاں سے ترکی کی سرحد کی جانب گئے تھے لیکن جونہی انھوں نے وہاں سرحد عبور کرکے ترکی کے علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کی تو ترک سرحدی محافظوں نے ان پر فائرنگ کردی۔

شامی رصدگاہ کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں چار بچے اور دو خواتین ہیں اور فائرنگ سے آٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ان میں بعض کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔آبزرویٹری کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق اس سال جنوری کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی علاقے میں ترک محافظوں کی فائرنگ کے واقعات میں کم سے کم ساٹھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔یہ تمام کے تمام شامی شہری تھے۔

مئی میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے ترک سرحدی محافظوں پر پناہ کی تلاش کے لیے آنے والے شامیوں پر فائرنگ کرنے اور انھیں تشدد کا نشانہ بنانے کا الزام عاید کیا تھا۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے ان اطلاعات کی تردید کی تھی اور ترک فوج نے کہا تھا کہ اس نے صرف اسلحے کے اسمگلروں پر فائرنگ کی تھی اور شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا تھا۔

شامی قومی اتحاد نے سرحدی علاقے میں فائرنگ کے آج کے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا شامی حکومت اور عوام کی میزبانی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔واضح رہے کہ ترکی میں اس وقت ستائیس لاکھ شامی مہاجرین رہ رہے ہیں۔ان میں سے صرف ڈھائی لاکھ کے لگ بھگ مہاجر کیمپوں میں مقیم ہیں جبکہ باقی شہروں اور قصبوں میں رہ رہے ہیں۔