.

شام : مسیحیوں کی یادگار پر خودکش بم حملہ ،تین افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمال مشرقی شہر قامشلی میں مسیحیوں کے قتل عام کی ایک یادگار پر منعقدہ تقریب کے موقع پر ایک خودکش بمبار نے حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

قامشلی کے ہال میں اتوار کے روز مقامی لوگ ایک صدی قبل سلطنت عثمانیہ کی فوج کے ہاتھوں مبینہ طور پر ہلاک شدہ ہزاروں مسیحیوں کی یاد میں منعقدہ تقریب کے لیے جمع ہوئے تھے۔اس دوران خودکش حملہ آور نے اس کے باہر دھماکا کردیا۔اے ایف پی کے لیے کام کرنے والے ایک فوٹو گرافر نے بتایا ہے کہ دھماکے کے بعد انسانی اعضاء ادھر ادھر بکھر گئے اور کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔

ایک سکیورٹی ذریعے نے بتایا ہے کہ خودکش حملہ آورنے ہال کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی تھی لیکن مقامی سکیورٹی فورسز نے اس کو روک لیا اور اس نے ان کے درمیان خود کو دھماکے سے اڑا دیا ہے۔

ہال کے باہر تعینات سکیورٹی اہلکاروں کا تعلق مسیحی ملیشیا سوترو سے تھا۔بم دھماکے میں سوترو کے تین اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔حملہ آور مبینہ طور پر شامی آرتھو ڈکس چرچ کے سربراہ اسقف اگنیشیئس افراہیم دوم تک پہنچنا چاہتا تھا،وہ اس وقت یادگاری تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا نے واقعے میں تین ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔