.

مرسی کو پانچ مقدمات میں سزائے موت اور 85 سال قید

توہین عدالت کیس میں سزا کا فیصلہ آنا باقی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصرکے معزول صدر محمد مرسی کو گذشتہ روز سنائی گئی ایک مقدمہ میں عمر قید کی سزا کے بعد انہیں اب تک پانچ مقدمات میں کل 85 سال قید اور سزائے موت کی سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ 18 جون کو مصری جج محمد شیرین فہمی کی قیادت میں قاہرہ کی ایک فوج داری عدالت نے معزول صدر کو عمر قید کی سزا کا حکم دیا۔ اس وقت وہ ایک مقدمہ میں سزائے موت اور چار میں مجموعی طور پر 85 سال قید کی سزا کا سامنا کر رہے ہیں۔

مصر کے پہلے منتخب صدر محمد مرسی پر پہلا مقدمہ وادی النطرون جیل توڑنے کا عاید کیا گیا ہے جس میں انہیں سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔ اس کے بعد انہیں جاسوسی کے مقدمہ میں 25 سال قید، الاتحادیہ میں شورش برپا کرنے پر 20 سال اور قطر کے لیے جاسوسی کے مقدمہ میں 40 سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے جب کہ عدالت کی توہین کے مقدمات پر سزا کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔

مصری عدالتوں کی جانب سے سنائی جانے والی سزائیں حتمی نہیں۔ ان تمام مقدمات میں انہیں نظرثانی کی اپیل کا حق دیا گیا ہے۔ بعض مقدمات میں نظرثانی کی اپیلوں کی سماعت بھی جاری ہے۔

مظاہرین قتل کیس

معزول صدر محمد مرسی پر الزام ہے کہ انہوں نے ستمبر 2013ء میں الاتحادیہ کے مقام پر مظاہرین کے قتل عام میں معاونت کی تھی۔ اس کے علاوہ سابق پراسیکیوٹر جنرل ھشام برکات کے قتل میں بھی مبینہ طورپر محمد مرسی کے حامیوں اور ان کی جماعت [کالعدم] اخوان المسلمون کے14 کارکنوں کا نام لیا جاتا ہے۔ اس مقدمہ میں مرسی کو 20 سال قید کی سزا کا حکم دیا گیا ہے۔

اس کیس میں قاہرہ کے ایوان صدر میں دسمبر 2013ء کو پرتشدد مظاہروں کی حمایت کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے جن میں کم سے کم 7 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

وادی النطرون کیس

مصری ذرائع ابلاغ میں وادی النطرون کیس کے نام سے مشہور اس مقدمہ میں معزول صدر اور ان کے ساتھیوں پر 25 فروری 2011ء کے انقلاب کے دوران النطرون جیل توڑ کر سیکڑوں قیدیوں کو فرار کرانے اور خود بھی جیل سےفرار ہونے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

اس کیس میں 16 جون 2015ء کو مصری جج شعبان الشامی نے محمد مرسی اور ان کے 129 دوسرے ساتھیوں کو سزائے موت اور قید کی سزائیں سنائی تھیں۔ اس کیس میں اخوان المسلمون کے مرشد عام محمد بدیع، ان کے نائب محمود عزت، پارلیمنٹ کے سابق اسپیکر محمد سعد الکتاتنی، محمد البلتاجی، عصام العریان، سعد الحسینی اور جماعت کے 124 دوسرے سرکردہ رہ نما اور ارکان، لبنانی حزب اللہ، فلسطین کی حماس کےکارکن اور قطری عالم دین الشیخ علامہ یوسف القرضاوی شامل ہیں۔

حماس کے لیے جاسوسی

حماس کے لیے جاسوسی کیس میں معزول صدر کے خلاف مقدمہ کی کارروائی دو سال قبل شروع کی گئی تھی اور مصری عدالت نے 16 جون 2015ء کو انہیں جماعت کے مرشد عام اور 15 دیگر رہ نماؤں سمیت عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ اسی کیس میں 13 مفرور ملزمان سمیت 16 کو سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔

اس کیس میں محمد مرسی ، جماعت کے مرشد عام اور دیگر ملزمان پر فلسطینی تنظیم حماس کے لیے جاسوسی کا الزام عاید کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ حماس کے کارکنوں کے ساتھ مل کر مصر مخالف سرگرمیوں میں حصہ لینے، پولیس اور فوج کے مراکز پرحملوں، لوٹ مار، تخریب کاری، مظاہرین کے قتل اور فوجیوں کے اغواء جیسے الزامات بھی شامل ہیں۔

قطر کے لیے جاسوسی

اسلام پسند معزول مصری صدر کےخلاف دائرپانچ مقدمات میں ایک کیس خلیجی ریاست قطر کے لیے جاسوسی کا بھی قائم کیا گیا ہے۔ قطر کو اہم راز فراہم کرنے کے جرم میں عمر قید اور 15 سال اضافی قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

اس کیس کی سماعت 6 ستمبر2014ء سے شروع ہوئی تھی اور سابق پراسیکیوٹر جنرل مقتول ھشام برکات کی سفارش پر محمد مرسی اور اخوان المسلمون کے 10 دیگر سرکردہ ارکان کو قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔