.

ایران: سابق صدر کے میڈیا مشیر کو 91 روز کی جیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی دارالحکومت تہران کی ایک عدالت نے سرکاری نیوز ایجنسی " اِرنا" کے ڈائریکٹر اور سابق صدر محمود احمدی نژاد کے مشیر برائے ذرائع ابلاغ علی اکبر جوان فکر کو 91 روز قید کی سزا سنائی ہے۔ علی اکبر پر پانچ برس قبل عدلیہ کی پولیس کو بغاوت پر اکسانے کا الزام تھا۔ علی اکبر نے عدلیہ کے کارندوں کو سرکاری روزنامے "ایران" میں کام کرنے والے صحافیوں کو گرفتار کرنے سے روک دیا تھا۔

سابق ایرانی صدر احمدی نژاد کے قریب سجھی جانے والی ویب سائٹ "دولت بہار" کے مطابق علی اکبر کے وکیل نے بتایا کہ عدالت نے اُن کے مؤکل کے علاوہ روزنامہ "ایران" کے تین صحافیوں عبدالرضا سلطانی، سعید یوسفی پور اور حسن قاسمی کو 91 روز کی جیل کی سزا دی ہے۔

یہ مقدمہ 2011 میں پیش آنے والے واقعے سے تعلق رکھتا ہے جب علی اکبر نے جو "ایران" میڈیا کارپوریشن کے ڈائریکٹر بھی ہیں، انہوں نے عدالتی کارندوں کے ہاتھوں ایران اخبار کے صحافیوں کی گرفتاری کی مزاحمت کی تھی۔ مذکورہ صحافیوں پر خصوصی اشاعت میں "اخلاق عامہ کے منافی مضامین اور تصاویر شائع کرنے" کا الزام تھا۔

اس وقت کی رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ فریقین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں جن میں پولیش نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

واقعے کے پانچ برس بعد تہران کے اٹارنی جنرل نے علی اکبر اور روزنامہ ایران کے 3 صحافیوں کے خلاف عدالتی فیصلے پر عمل درامد کا حکم دیا۔

سال 2012ء میں علی اکبر کو مرشد اعلی کی اہانت اور اسلامی اقدار اور اخلاق عامہ کے منافی مضمون شائع کرنے کے الزام میں مختصر مدت کے لیے گرفتار بھی کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ انہیں ہر طرح کی میڈیا سرگرمیوں سے بھی روک دیا گیا تھا۔ تاہم احمدی نژاد کے دباؤ پر ان کو الزامات سے بری کردیا گیا۔